پروفیسر محمد ارشد کی خود نوشت ”زمین زاد“: ایک استاد کی زندگی اور جہلم کی تہذیبی تاریخ کا عہد نامہ
پروفیسر محمد ارشد کی خود نوشت سوانح حیات ”زمین زاد“ محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی داستان ہے۔ ایسی داستان جس میں ایک استاد کی زندگی، جہلم کی تہذیبی فضا، تعلیمی اداروں کے بدلتے رنگ، اور معاشرتی رویوں کی جھلک ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ عام طور پر آپ بیتیاں انسان کی ذاتی زندگی تک محدود رہتی ہیں، مگر جب لکھنے والا ایک صاحبِ مطالعہ استاد ہو، اور وہ بھی اردو ادب کا شناسا، تو اس کی تحریر محض یادداشت نہیں رہتی بلکہ عہد نامہ بن جاتی ہے۔ یہی کیفیت ”زمین زاد“ کو دوسری سوانح عمریوں سے ممتاز کرتی ہے۔
گورنمنٹ ڈگری کالج دینہ کے سابق پرنسپل پروفیسر محمد ارشد نے اپنی زندگی کے تجربات کو جس سادگی اور روانی سے قلم بند کیا ہے، وہ قاری کو شروع سے آخر تک اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔ کتاب بک کارنر جہلم نے شائع کی، اور جیسے ہی یہ کتاب ہاتھ میں آئی، دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اسے محض پڑھا نہ جائے بلکہ اس پر کچھ لکھا بھی جائے۔ ارادہ یہ تھا کہ کتاب پر تبصرہ لکھنے سے پہلے خود مصنف سے ملاقات کی جائے تاکہ شخصیت کو قریب سے سمجھنے کے بعد ان کی تحریر کے رنگ کو بہتر انداز میں محسوس کیا جا سکے۔
اسی خیال کے تحت ”پنج گرائیں“ کے ایک دوست سے رابطہ کیا گیا۔ چند روز میں ملاقات کا پروگرام بننے ہی والا تھا کہ اچانک فون پر خبر ملی کہ پروفیسر محمد ارشد اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ یہ اطلاع محض ایک ادیب یا استاد کی وفات کی خبر نہیں تھی بلکہ یوں محسوس ہوا جیسے جہلم کی علمی روایت کا ایک چراغ بجھ گیا ہو۔ افسوس اس بات کا رہا کہ ملاقات نہ ہو سکی، کیونکہ بعض لوگ اپنی تحریروں سے جتنے قریب محسوس ہوتے ہیں، ان سے بالمشافہ گفتگو کی خواہش اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
”زمین زاد“ پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنی زندگی صرف درس و تدریس میں نہیں گزاری بلکہ اپنی زمین، اپنے شہر اور اپنے لوگوں کو بھی پوری محبت سے جیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب صرف ”آپ بیتی“ نہیں بلکہ ”علم بیتی“ اور ”جہلم بیتی“ بھی ہے۔ اس میں گزشتہ چھ دہائیوں کے جہلم کی ایسی جھلکیاں موجود ہیں جو شاید سرکاری ریکارڈ میں بھی محفوظ نہ ہوں۔ گلیوں، محلوں، تعلیمی اداروں، سماجی رویوں اور شخصیات کا ذکر اس انداز میں کیا گیا ہے کہ قاری خود کو ان مناظر کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔
پروفیسر محمد ارشد نے محکمہ تعلیم کے تجربات، اساتذہ کے مزاج، طلبہ کے بدلتے رویوں اور تعلیمی نظام کی خامیوں پر بھی نہایت بے باکی سے قلم اٹھایا ہے۔ ان کی تحریر میں شکایت بھی ہے، طنز بھی، محبت بھی اور درد بھی۔ وہ اپنے دور کے لوگوں کو صرف یاد نہیں کرتے بلکہ ان کا تجزیہ بھی کرتے ہیں۔ معاصرین پر لکھنا ہمیشہ ایک مشکل کام سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں ذاتی تعلقات اور سماجی حساسیت آڑے آتی ہے، مگر مرحوم نے بڑی مہارت سے اس مرحلے کو عبور کیا ہے۔ انہوں نے نہ ضرورت سے زیادہ تعریف کی اور نہ غیر ضروری تنقید، بلکہ ہر شخصیت کو اس کے اصل تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
اگر نثر کی بات کی جائے تو پروفیسر محمد ارشد کی زبان ان کی علمی پختگی کی گواہ نظر آتی ہے۔ اردو میں ایم فل ہونے کے باعث انہیں زبان و بیان پر مکمل عبور حاصل تھا۔ ان کی نثر میں ایک خاص روانی اور شگفتگی پائی جاتی ہے۔ وہ مشکل الفاظ یا ثقیل تراکیب سے قاری کو مرعوب کرنے کے بجائے سادہ مگر دل نشین اسلوب اختیار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب پڑھتے ہوئے کہیں اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ زبان کا بہاؤ قاری کو اپنے ساتھ بہاتا چلا جاتا ہے۔
کتاب کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ مصنف نے مقامی زبان اور ثقافت کو نظر انداز نہیں کیا۔ کئی مقامات پر پنجابی الفاظ اور محاورات جیسے ”چھانگا“، ”شہدے“، ”شریک“ اور ”کڑیاں کھاندو“ اس خوبصورتی سے استعمال کیے گئے ہیں کہ تحریر مزید جاندار محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ الفاظ محض لسانی چاشنی نہیں بلکہ اس دھرتی کی خوشبو ہیں، جو کتاب کے صفحات سے محسوس ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے مصنف صرف واقعات بیان نہیں کر رہا بلکہ اپنے علاقے کی روح قاری تک منتقل کر رہا ہو۔
”زمین زاد“ دراصل اپنی مٹی سے محبت کا اظہار ہے۔ اس میں ایک ایسے شخص کی آواز سنائی دیتی ہے جو اپنی زمین، اپنے لوگوں اور اپنی تہذیب سے جڑا ہوا تھا۔ پروفیسر محمد ارشد نے اپنی ذاتی زندگی کے تجربات کے ساتھ جہلم کی تاریخ، سماج اور شخصیات کو بھی محفوظ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب محض سوانح عمری نہیں بلکہ ایک مقامی تاریخ بھی بن گئی ہے۔
آج جب نئی نسل اپنی تہذیبی اور مقامی شناخت سے دور ہوتی جا رہی ہے، ایسی کتابیں ہمیں اپنی جڑوں کی یاد دلاتی ہیں۔ ”زمین زاد“ یہ احساس دلاتی ہے کہ اپنی زمین سے تعلق صرف وہاں پیدا ہونے کا نام نہیں بلکہ اس کی تاریخ، زبان، لوگوں اور روایتوں کو سمجھنے اور محفوظ کرنے کا عمل بھی ہے۔ پروفیسر محمد ارشد نے اپنی تحریر کے ذریعے یہی فریضہ انجام دیا اور یوں واقعی ”زمین زادہ“ ہونے کا حق ادا کر دیا۔
نوید احمد، ایڈیٹر انچیف جہلم لائیو، ایک تجربہ کار صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ متنوع موضوعات پرمعیاری تحریریں پیش کرتے ہیں۔ دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور ڈیجیٹل صحافت میں ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے ہیں،جہلم لائیو کا تمام مواد ان کی ادارت میں شائع کیا جاتا ہے،زیر نظر مضمون بھی ان کا تحریر کردہ ہے۔