محبت کی لازوال مثال: امریکی پاکستانی نے سوہاوہ میں مرحومہ اہلیہ کے نام پر واٹر پراجیکٹ کا افتتاح کر دیا

یہ کہانی ہے امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی قاسم فیروز خان کی،جنہوں نے اپنی ذاتی زندگی کے ایک گہرے دکھ کو انسانیت کی خدمت میں بدل دیا۔ یہ صرف ایک شخص یا ایک خاندان کی داستان نہیں بلکہ محبت، وفاداری اور انسان دوستی کی ایسی مثال ہے جو معاشرے میں امید کی نئی کرن پیدا کرتی ہے۔

قاسم فیروز خان نے امریکہ میں رہائش کے دوران ایک انڈین نژاد امریکی خاتون سے شادی کی،جو ہندو مذہب سے تعلق رکھتی تھیں۔ محبت اور باہمی احترام کے اس رشتے میں مذہب کبھی رکاوٹ نہ بنا،بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس خاتون نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام نمی خان رکھ لیا۔ دونوں میاں بیوی خوشگوار زندگی گزار رہے تھے اور ان کے قریبی افراد کے مطابق ان کے درمیان محبت،خلوص اور احترام کا رشتہ انتہائی مضبوط تھا۔

نمی خان کی وفات اور فلاحی پراجیکٹ:

لیکن زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ کچھ عرصے بعد نمی خان انتقال کر گئیں۔ یہ لمحہ قاسم فیروز خان کے لئے نہایت صدمے اور غم کا باعث تھا۔ ایک ایسے شخص کے لئے جس نے اپنی شریکِ حیات کے ساتھ زندگی کے خوبصورت خواب سجائے ہوں،اس کا اچانک بچھڑ جانا ناقابلِ بیان دکھ ہوتا ہے۔ تاہم قاسم فیروز خان نے اپنے اس غم کو صرف آنسوؤں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی مرحومہ اہلیہ کی یاد کو کسی ایسے کام سے زندہ رکھا جائے جو انسانیت کے لئے فائدہ مند ہو۔

اسی سوچ کے تحت انہوں نے پاکستان کے شہر جہلم میں اپنے عزیز محمد جمیل سے رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران یہ خیال سامنے آیا کہ اگر کسی ایسے علاقے میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں جہاں لوگ شدید مشکلات کا شکار ہوں تو یہ نمی خان کے نام پر بہترین خراجِ عقیدت ہوگا۔ محمد جمیل نے اس سلسلے میں اپنے دوستوں چوہدری قاسم دریہ،چوہدری ساجد امین چیئرمین گوجر یوتھ فورم،چوہدری فیصل محکمہ تعلیم جہلم،چوہدری حسن مصطفیٰ کالا گوجراں،چوہدری ریحان اصغر گگڑ خورد اور دیگر سماجی شخصیات سے مشاورت کی۔

تحقیقات اور مقامی معلومات سے معلوم ہوا کہ تحصیل سوہاوہ کے مختلف علاقوں میں پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر بڑا گواہ کے گورنمنٹ ہائی سکول اور ملحقہ مسجد میں پینے کے صاف پانی اور روزمرہ استعمال کے لئے پانی کی شدید کمی تھی۔ یہ مسئلہ کئی برسوں سے موجود تھا،جس کی وجہ سے طلبہ،اساتذہ اور نمازیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

گورنمنٹ ہائی سکول بڑا گواہ کے ہیڈ ماسٹر چوہدری سلطان پرویز نے بتایا کہ سکول میں پانی کی عدم دستیابی کے باعث طلبہ کو نہ صرف پینے کے پانی کی دشواری پیش آتی تھی بلکہ صفائی اور دیگر ضروری امور بھی متاثر ہوتے تھے۔ گرمیوں کے موسم میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی تھی اور بچے دور دراز سے پانی لانے پر مجبور ہوتے تھے۔

چنانچہ قاسم فیروز خان اور ان کی فلاحی ٹیم نے فوری طور پر عملی اقدامات کا آغاز کیا۔ مرحومہ نمی خان کے نام پر سکول اور مسجد میں پانی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے بورنگ کروائی گئی اور جدید واٹر فلٹریشن سسٹم بھی نصب کیا گیا۔ اس اقدام سے نہ صرف سکول اور مسجد میں صاف پانی کی فراہمی ممکن ہوئی بلکہ علاقے کے لوگوں کو بھی ایک بڑی سہولت میسر آ گئی۔

اسی دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ سکول کے قریب ایک غریب خاندان بھی پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ فلاحی ٹیم نے اس خاندان کو بھی نظر انداز نہیں کیا بلکہ فوری طور پر ان کے گھر میں پانی کی فراہمی کے لئے بورنگ اور ضروری سامان مہیا کیا۔ مقامی افراد کے مطابق اس خاندان کی خواتین کو روزانہ دور سے پانی لانا پڑتا تھا،لیکن اب ان کی زندگی میں بھی آسانی آ گئی ہے۔

پراجیکٹ کا افتتاح:

گزشتہ روز ان واٹر فلٹریشن منصوبوں کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں فلاحی ٹیم کے ارکان،اہلیان علاقہ،اساتذہ اور شہریوں نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران لوگوں نے اس اقدام کو انسان دوستی اور سماجی خدمت کی بہترین مثال قرار دیا۔ حافظ سعید نے اس موقع پر خصوصی دعا بھی کروائی اور مرحومہ نمی خان کے لئے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی گئی۔

ہیڈ ماسٹر چوہدری سلطان پرویز نے جہلم لائیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ صرف پانی کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ اس نے پورے علاقے کے لوگوں میں امید پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جہاں لوگ ذاتی مفادات میں مصروف ہیں وہاں کسی مرحوم کے نام پر عوامی خدمت کا ایسا منصوبہ قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے قاسم فیروز خان اور ان کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس اقدام نے برسوں پرانا مسئلہ حل کر دیا ہے۔

اس موقع پر چوہدری ساجد امین نے بھی جہلم لائیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمت ان کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق پانی ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور کسی بھی معاشرے کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹیم مستقبل میں بھی پانی کی فراہمی اور دیگر فلاحی منصوبوں پر کام جاری رکھے گی تاکہ مزید علاقوں میں عوامی مسائل حل کئے جا سکیں۔

اس فلاحی منصوبے کو نہ صرف اہلیان علاقہ بلکہ جہلم کے شہریوں نے بھی بھرپور انداز میں سراہا۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگوں نے قاسم فیروز خان اور ان کی ٹیم کے اس اقدام کو انسانیت کی خدمت کی خوبصورت مثال قرار دیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر صاحبِ حیثیت لوگ اسی طرح اپنے وسائل کو عوامی خدمت کے لئے استعمال کریں تو معاشرے کے کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

یہ کہانی اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ محبت صرف لفظوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ بعض اوقات وہ انسانیت کی خدمت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ قاسم فیروز خان نے اپنی مرحومہ اہلیہ کی یاد کو صرف ایک ذاتی غم تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ہزاروں لوگوں کے لئے آسانی اور سہولت کا ذریعہ بنا دیا۔ یہی وہ جذبہ ہے جو معاشروں کو بہتر اور انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔