برطانیہ: جہلم کے سپوت ذوالقرنین حیات کی برنلے کونسل انتخابات میں تاریخی کامیابی
برطانیہ میں 7 مئی 2026 کو منعقد ہونے والے لوکل کونسلز کے انتخابات میں پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے ایک مرتبہ پھر اپنی سیاسی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔ مختلف شہروں میں کئی پاکستانی نژاد امیدوار کامیاب ہوئے، جن میں ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی نمایاں رہیں۔ ان کامیاب امیدواروں میں ایک اہم اور قابل ذکر نام ذوالقرنین حیات کا ہے، جنہوں نے پہلی مرتبہ انتخابی میدان میں قدم رکھتے ہوئے آزاد امیدوار کی حیثیت سے شاندار کامیابی حاصل کی۔
ذوالقرنین حیات نے برطانیہ کے شہر برنلے (Burnley) کے کوئینز گیٹ (QueensGate) وارڈ سے انتخابات میں حصہ لیا اور مجموعی طور پر 936 ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے۔ ان کی کامیابی اس حوالے سے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کہ انہوں نے برطانیہ کی بڑی اور منظم سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو شکست دی۔ ان کے مقابلے میں لیبر پارٹی، ریفارم یوکے اور لبرل ڈیموکریٹس جیسے مضبوط سیاسی پلیٹ فارمز کے امیدوار موجود تھے، تاہم عوام نے ایک آزاد امیدوار پر اعتماد کرتے ہوئے ذوالقرنین حیات کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
مقامی سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کامیابی صرف ایک شخص کی جیت نہیں بلکہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے بڑھتے ہوئے سیاسی شعور اور اعتماد کی عکاس بھی ہے۔ برطانیہ میں مقیم اوورسیز پاکستانی اور خصوصی طور پر جہلمی اب صرف کاروبار، ملازمت یا سماجی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ مقامی سیاست، پالیسی سازی اور عوامی نمائندگی میں بھی اپنا مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔
اگر ذوالقرنین حیات کی ذاتی زندگی اور پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو وہ برطانیہ کے شہر برنلے میں ہی پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے۔ ان کے والد میاں عرفان حیات ایک باعزت اور معزز شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا خاندان کئی دہائیوں سے برطانیہ میں مقیم ہے اور محنت، دیانتداری اور کمیونٹی خدمات کے حوالے سے اچھی شہرت رکھتا ہے۔
ذوالقرنین حیات کا تعلق پاکستان کے ضلع جہلم کے معروف قصبے چک جمال کے ایک معزز خاندان سے ہے۔ اس سرزمین نے ہمیشہ تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور باوقار شخصیات کو جنم دیا ہے، جنہوں نے ملک اور بیرون ملک مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ذوالقرنین حیات کی کامیابی بھی اسی روایت کا تسلسل قرار دی جا رہی ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی انہوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے سائیکو تھراپی (Psychotherapy) میں ماسٹر ڈگری حاصل کر رکھی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ انسانی نفسیات، سماجی مسائل اور ذہنی صحت کے معاملات کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی کمیونٹی میں انہیں ایک سنجیدہ، نرم مزاج اور عوامی مسائل کو سمجھنے والی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ذوالقرنین حیات کی کامیابی کے پیچھے ان کی کمیونٹی کے ساتھ مضبوط وابستگی، عوامی رابطہ مہم اور نوجوانوں میں مقبولیت نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران لوگوں کے گھروں تک جا کر ان کے مسائل سنے، نوجوانوں، بزرگوں اور مختلف کمیونٹی گروپس سے ملاقاتیں کیں اور ایک مثبت پیغام کے ساتھ خود کو عوام کے سامنے پیش کیا۔
خاص طور پر ان کا آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ووٹرز نے سیاسی جماعتوں کے بجائے شخصیت، کردار اور خدمت کے جذبے کو ترجیح دی۔ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ جمہوری ملک میں آزاد امیدوار کی کامیابی آسان نہیں سمجھی جاتی، کیونکہ بڑی سیاسی جماعتوں کے پاس مضبوط تنظیمی ڈھانچہ، مالی وسائل اور انتخابی نیٹ ورک موجود ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ذوالقرنین حیات نے اپنی محنت، عوامی رابطے اور مثبت امیج کی بدولت یہ کامیابی حاصل کی۔
جہلم لائیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ذوالقرنین حیات نے اپنی کامیابی کو عوام کے اعتماد کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ووٹرز کے بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں کامیاب بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور کونسلر وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے کمیونٹی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے اور عوام نے ان پر جو اعتماد کیا ہے، وہ اسے کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی اولین ترجیحات میں مقامی کمیونٹی کے مسائل، نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع، صفائی، صحت، تعلیم اور سماجی ہم آہنگی کا فروغ شامل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کا ذریعہ ہونی چاہیے۔
ذوالقرنین حیات نے نوجوان نسل کو بھی سیاست اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ صرف اپنی کمیونٹی تک محدود نہ رہیں بلکہ برطانوی معاشرے کے مثبت اور فعال شہری کے طور پر کردار ادا کریں۔
برطانیہ میں پاکستانی نژاد نمائندوں کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اوورسیز پاکستانی نہ صرف معاشی میدان میں بلکہ سیاسی اور سماجی سطح پر بھی نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے افراد نے برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں اپنی محنت، تعلیم اور قابلیت کی بنیاد پر ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔
ادارہ جہلم لائیو نے ذوالقرنین حیات کو ان کی شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ وہ بطور کونسلر اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں گے اور اپنی کمیونٹی سمیت پورے علاقے کے عوام کی خدمت میں اہم کردار ادا کریں گے۔
یہ کامیابی نہ صرف ذوالقرنین حیات اور ان کے خاندان کے لیے باعث فخر ہے بلکہ ضلع جہلم، چک جمال اور اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا خبر ہے۔