چوہدری ندیم خادم اور مسٹر پتلو کا معاملہ: جہلم میں سوشل میڈیا وار اور اخلاقیات

ندیم خادم اور مسٹر پتلو کا معاملہ

سوشل میڈیا پر جہلم کے حوالے سے آج کل ایک معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے،بلکہ کردار کشی کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو چکا ہے،اور یہی ہمارے ہاں سوشل میڈیا کا بد ترین پہلو ہے جو تنقید سے بڑھ کر نفرت تک جا پہنچتا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ سیالکوٹ میں چند روز قبل ہونے والی نیزہ بازی کی ایک تقریب میں جہلم کےسابق ایم پی اے چوہدری ندیم خادم کا مبینہ طور پر ایک آڈیو کلپ ہے،جس میں وہ سوشل میڈیا سٹار محمد عنصر جٹ المعروف مسٹر پتلو کے بارے میں کچھ سخت الفاظ بول رہے ہیں،پھر اس کے بعد چراغوں میٖں روشنی نہ رہی۔

اب یہ تلخی سوشل میڈیا کی باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔جس میں مسٹر پتلو کی ٹیم کردار کشی کی تمام حدیں پھلانگتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف سابق ایم پی اے چوہدری ندیم خادم ہیں، جو جہلم کے ایک سیاستدان ہیں اور روایتی کھیلوں خصوصاً نیزہ بازی کے شوقین سمجھے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب مسٹر پتلو ہیں جو ایک سوشل میڈیا سٹار ہیں اور ان کی ٹیم ہے، جو اس معاملے کو مسلسل آن لائن موضوع بنائے ہوئے ہیں۔

جہاں تک نڈیم خادم کا تعلق ہے،وہ جہلم کے ایک معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں،سابق ممبر صوبائی اسمبلی ہیں، بزرگ سیاستدان چوہدری خادم حسین کے بیٹے ہیں،نیزہ بازی ان کا شوق ہے،ان سے ہمارا ہزار اختلاف ہو سکتا ہے،اور بعض اوقات ان کی زبان سے سخت الفاظ بھی نکل جاتے ہیں،جو ان کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں ،لیکن جو کچھ ان کے ساتھ سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے،یہ انتہائی قابل مذمت ہے،

سوال یہ ہے کہ کیا ایک کھیل یا تقریب میں ہونے والا اختلاف اتنا بڑھ جانا چاہیے کہ ذاتی حملوں تک نوبت پہنچ جائے؟

پاکستانی معاشرے میں سیاسی شخصیات پہلے ہی سخت عوامی تنقید کا سامنا کرتی ہیں،اور گالی ہمیشہ سیاستدان کو ہی دی جاتی ہے مگر افسوس یہ ہے کہ اب سوشل میڈیا نے ہر شخص کو جج، جیوری اور میڈیا ہاؤس بنا دیا ہے۔ بغیر تصدیق کے الزامات، طنزیہ مہمات اور ذاتی حملے نہ صرف ماحول خراب کرتے ہیں بلکہ معاشرتی تقسیم کو بھی بڑھاتے ہیں۔اور اسی وجہ سے معاشرے میں تشدد اور نفرت بڑھ رہی ہے۔

اگرچہ اس طرح کی تلخ بحث بدقسمتی سے کسی سوشل میڈیا سٹار کے لئے مقبولیت کا ٹول Tool سمجھا جاتا ہے،اسی سے اس کو ویوز ملتے ہیں اور کوئی اس موقع کو کیوں ضائع کرے گا،لیکن پھر بھی عنصر جٹ کو معاملے کی سنگینی کو سمجھنا چاہیے،اور اپنی ٹیم کو دے گئے ٹاسک پر نظر ثانی کرنی چاہیے،ورنہ تلخی بڑھتی جائے گی، دونوں طرف سے سوشل میڈیا ٹیموں نے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دینا ہے،جس میں صارفین تو مزہ لیں گے،لیکن بھلائی کسی کی بھی نہیں ہو گی۔

دوسری جانب سرکار کا بنایا گیا سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ شاید ابھی اتنا مضبوط نہیں ہے کہ وہ اس نفرت پر مبنی کردار کشی کو مکمل طور پر روک سکے۔

بہرحال دیکھا جائے تو اس بحث میں ندیم خادم کے لئے کھونے کو بہت کچھ ہے،شاید سوشل میڈیا سٹا ر کے پاس اب کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے،اس لئے ندیم خادم کو اس معاملے میں زیادہ ذمہ داری سے کام لینا ہو گا۔

نوید احمد، ایڈیٹر انچیف جہلم لائیو، ایک تجربہ کار صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ متنوع موضوعات پرمعیاری تحریریں پیش کرتے ہیں۔ دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور ڈیجیٹل صحافت میں ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے ہیں،جہلم لائیو کا تمام مواد ان کی ادارت میں شائع کیا جاتا ہے،زیر نظر مضمون بھی ان کا تحریر کردہ ہے۔