جہلم رویا یا مسکرایا؟ ایک دریا، دو کہانیاں اور صدیوں کی تاریخ
کچھ سال پہلے سرحد پار سے ایک آواز آئی…
ایک ایسی آواز جس نے خاموشی کو چیر کر دنیا کے کانوں تک رسائی حاصل کی۔
کہا گیا: “جہلم رویا”۔
یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ ایک احساس تھا، ایک داستان تھی، ایک درد تھا جو لہروں میں گھل کر بہہ رہا تھا۔ دنیا نے اسے سنا، محسوس کیا، اور اس پر بات بھی کی۔
لیکن سرحد کی دوسری طرف، ہم اس آواز کو سنتے ہوئے ایک اور کہانی سنانا چاہتے ہیں۔ ہم کہنا چاہتے ہیں کہ جہلم صرف روتا نہیں…
جہلم ایک زندہ احساس ہے۔
یہ ہنستا بھی ہے، مسکراتا بھی ہے، خواب بھی دیکھتا ہے، جاگتا بھی ہے۔
یہ خوشی میں جھومتا ہے اور غم میں خاموش ہو جاتا ہے۔
جہلم نے زمانے کے بے شمار رنگ دیکھے ہیں۔
اس کی لہروں میں تاریخ کی جھلک بھی ہے اور مستقبل کی امید بھی۔
یہ صرف ایک دریا نہیں، بلکہ ایک مکمل تہذیب، ایک مکمل کہانی ہے۔
یہاں Diversityہے، جذبات کی، لوگوں کی، اور تجربات کی۔
فہیم عبداللہ، جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان آرٹسٹ ہے، اس نے 2020 میں ایک گانا تخلیق کیا—”جہلم”۔
یہ گانا محض موسیقی نہیں تھا، بلکہ ایک پیغام تھا، ایک پکار تھی۔
یوٹیوب پر اسے دو ملین سے زیادہ لوگوں نے دیکھا اور سنا، اور ہر سننے والے نے اس میں چھپے درد کو محسوس کیا۔
سات منٹ سے زیادہ دورانیے کی اس ویڈیو میں، فہیم عبداللہ نے کشمیر کی ایک ایسی تصویر پیش کی جو عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔
انہوں نے جدوجہد دکھائی، قربانیاں دکھائیں، وہ تکالیف دکھائیں جو وہاں کے لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر… انہوں نے کہا: “جہلم رویا”۔
شاید ان کا مطلب یہ تھا کہ دریائے جہلم صرف پانی نہیں بہاتا، بلکہ آنسو بھی بہاتا ہے۔
کشمیر کے لوگوں کے آنسو، ان کی دعائیں، ان کی خاموش چیخیں… سب اس دریا میں شامل ہو جاتی ہیں۔
یہ آنسو پانی کے ساتھ بہتے ہوئے سرحد کو عبور کرتے ہیں اور یہاں تک پہنچتے ہیں۔
یہ درد اور خوشی کا ایک مشترکہ سفر ہے۔
ایک ایسا سفر جس میں جذبات کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
جہلم اور کشمیر کا تعلق کوئی نیا نہیں۔
یہ رشتہ صدیوں پرانا ہے، ایک ایسا رشتہ جو وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا گیا۔
یہ دریا دونوں طرف کے لوگوں کو ایک غیر مرئی دھاگے سے باندھے رکھتا ہے۔
لیکن سرحد کے اس پار، جہلم کے جذبات صرف ایک رنگ تک محدود نہیں۔
یہاں بھی کہانیاں ہیں، یہاں بھی جذبات ہیں، یہاں بھی تاریخ ہے۔
یہ وہی جہلم ہے جو اس وقت رویا تھا جب راجہ پورس نے سکندر اعظم کے خلاف جنگ لڑی اور شکست کھائی۔
وہ دن بھی اس دریا نے دیکھا، جب زمین پر طاقت اور حکمت کا امتحان ہو رہا تھا۔
یہ وہی جہلم ہے جو 1857 میں بھی رویا، جب اس دھرتی کے بیٹوں نے آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔
ان کی چیخیں، ان کی قربانیاں، سب اس دریا کے پانی میں محفوظ ہو گئیں۔
لیکن کہانی صرف دکھ کی نہیں۔
جہلم نے خوشیوں کے لمحات بھی دیکھے ہیں۔
یہ وہی جہلم ہے جو خوشی سے جھوم اٹھا جب سولہویں صدی میں قلعہ روہتاس تعمیر ہوا۔
ایک عظیم شاہکار، جو آج بھی تاریخ کی شان بن کر کھڑا ہے۔
یہ وہی جہلم ہے جو اس وقت بھی خوش ہوا جب کھیوڑہ میں نمک کی دریافت ہوئی—
ایک ایسا خزانہ جس نے نہ صرف معیشت کو مضبوط کیا بلکہ دنیا بھر میں اس خطے کا نام روشن کیا۔
اور پھر 1947…
جب آزادی کا سورج طلوع ہوا،
جہلم واقعی بہت خوش ہوا۔
یہ صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ ایک خواب کی تعبیر تھی۔
جہلم نے ادب اور شاعری کے رنگ بھی دیکھے ہیں۔
جوگی جہلمی، درشن سنگھ آوارہ، سید ضمیر جعفری اور تنویر سپرا جیسے شعرا کی آوازیں جب فضا میں گونجتی تھیں،
تو جہلم بھی ان کے ساتھ محظوظ ہوتا تھا، ان کے الفاظ کو اپنی لہروں میں سمیٹ لیتا تھا۔
لیکن آج کا جہلم…
کچھ بدلا ہوا سا لگتا ہے۔
آج کل جہلم کچھ ناراض ہے، کچھ غصے میں ہے۔
وجہ شاید بہت بڑی نہ لگے، لیکن احساسات کے لیے ہر چیز اہم ہوتی ہے۔
128 کلومیٹر کی دو رویہ سڑک، جو کئی سالوں سے زیرِ تعمیر ہے، اب تک مکمل نہیں ہو سکی۔
یہ تاخیر صرف ایک ترقیاتی منصوبے کی تاخیر نہیں، بلکہ لوگوں کی امیدوں میں تاخیر ہے۔
جہلم اس سست روی پر ناراض ہے، کیونکہ وہ ترقی چاہتا ہے، آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
اس کے باوجود…
یہاں کا جہلم اب بھی پرسکون انداز میں بہتا ہے۔
یہ دریا ایک مختلف طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی میں بہاؤ ضروری ہے،
رک جانا نہیں، آگے بڑھتے رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔
جہاں ایک طرف کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی جدوجہد کی بازگشت اس دریا میں سنائی دیتی ہے،
وہیں دوسری طرف جہلم کے لوگوں کی امید، ان کا حوصلہ، ان کا عزم بھی اسی دریا میں جھلکتا ہے۔
یہ دریا صرف پانی کا بہاؤ نہیں،
یہ جذبات کا بہاؤ ہے۔
یہ ایک خاموش زبان ہے جو سب کچھ کہہ دیتی ہے۔
اور اگر آپ غور سے دیکھیں…
تو آپ کو اس دریا کے دونوں کناروں پر ایک جیسی چیزیں نظر آئیں گی:
دعائیں، امیدیں، اور ایک بہتر مستقبل کے خواب۔
یہ خواب سرحدوں کے محتاج نہیں ہوتے۔
یہ وقت کے ساتھ ضرور پورے ہوتے ہیں۔
شاید آج نہیں،
شاید کل نہیں،
لیکن ایک دن ضرور آئے گا…
جب کشمیر اور جہلم کے لوگ،
اسی دریائے جہلم کے کنارے کھڑے ہو کر،
خوشی کے گیت گائیں گے۔
وہ دن ایسا ہوگا جب اس دریا کی لہروں میں صرف مسکراہٹیں ہوں گی،
صرف خوشیاں ہوں گی،
صرف امن ہوگا۔
اور پھر…
کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ “جہلم رویا”۔
بلکہ دنیا کہے گی:
“جہلم مسکرایا”۔
نوید احمد، ایڈیٹر انچیف جہلم لائیو، ایک تجربہ کار صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ متنوع موضوعات پرمعیاری تحریریں پیش کرتے ہیں۔ دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور ڈیجیٹل صحافت میں ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے ہیں،جہلم لائیو کا تمام مواد ان کی ادارت میں شائع کیا جاتا ہے،زیر نظر مضمون بھی ان کا تحریر کردہ ہے۔