شخصیت سازی اور خود اعتمادی: جہلم کے نوجوانوں کے لیے کامیابی کی کلید
کیا آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے؟
اس سلسلے میں جہلم کے نوجوانوں کے لئے خصوصی طور پر اور دیگر قارئین کے لئے چند ضروری پہلو پیش خدمت ہیں۔
اس سلسلے میں چند ضروری پہلو پیش خدمت ہیں۔
شکرگزاربنیں:
شکرگزاری اور خود اعتمادی، مضبوط لوگوں کی اہم خصوصیت ہے۔ آپ کے پاس موجود چیز وں پر شکر گزار ہوں۔اپنی زندگی اور کامیابیوں کو معمولی نہ سمجھیں۔
اگر آپ کو زندگی میں کسی اہم رویےکی ضرورت ہے تو،وہ شکریہ ادا کرنے کا رویہ ہے،جس سے لوگوں کے دلوں میں آپ کے لئے محبت بڑھے گی۔
اس سے آپ کی زندگی میں موجود مشکلات میں کمی ہو گی،اور آپ کی شخصیت نکھر جائے گی۔
خودسے نفرت نہ کریں:
جب آپ مسلسل اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کے بارے میں سوچیں گے تو اس سے آپ کی ذات میں عدم تحفظ بڑھے گا،آپ بے چین نظر آئیں گے،اور آپ کے رویے میں منفی عنصر نمایاں ہوں گے،لہذا اپنی ناکامی کی بجائے کامیابی پر نظر رکھنا ہو گی،چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو اہم سمجھتے ہوئے ان سے لطف اٹھائیں،اور اپنے آپ کو قابل نفرت نہ سمجھیں،یہ رویہ آپ کی شخصیت کو کھا جائے گا،جس سے نقصان صرف آپ کا ہو گا۔
ماضی کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں:
اپنے ماضی کے تجرباے سے فائدہ اٹھانا ذاتی ترقی کے لئے انتہائی اہم ہے، اپنی ناکامیوں اور مشکلات کے تجربات پر جب آپ غور کرتے ہیں تو اس سے آپ کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے،اس لئے جب آپ اپنے ماضی کو حال اور مستقبل سے جوڑتے ہیں تو آپ کی زندگی میں مثبت تبدیلی آتی ہے،آپ کی ذاتی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنا سیکھیں:
پانی ایک جگہ زیادہ دیر کھڑا رہے تو اس میں سے بد بو آنا شروع ہو جاتی ہے،اس لئے اپنے نقطہ نظر پر ضد اور انا کی وجہ سے کھڑا رہنے سے بہتر ہے کہ جب آپ کو حقائق کا علم ہو جائے تو اس کے تحت اپنا نقطہ نطر تبدیل کر لیں۔یہی آپ کے لئے بہتر پلان ہے۔دراصل آپ کو صحیح رائے تک پہنچنا ہے،چنانچہ اپنی رائے کی بجائے،اپنی پسند نا پسند کی بجائے صحیح رائے تک پہنچنے کے لئے اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنا سیکھیں،اس سے آپ کی عزت میں اضافہ ہو گا۔
اپنے خوف سے چھٹکارا حاصل کریں:
آپ نہیں جانتے کہ خوف کے بغیر آپ کتنے عظیم ہوسکتے ہیں،آپ یہ اسی وقت جان سکتے ہیں جب آپ اپنے کمفرٹ زون یعنی سستی یا آسانی سے باہر نکلیں گے۔
خوف سے نجات کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہر دوسرے دن انتہائی بہادر بنتے ہوئے کسی غلط سمت چلے جائیں یاپیراشوٹ کے بغیر ہوائی جہازسے چھلانگ لگا دیں۔
بلکہ اپنے آپ پر طاری ہونے والے خوف سے باہر نکلیں،یہ اندرونی خوف آپ کی صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتا ہے،تاریخ بہادر لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے بزدلوں کے لئے تاریخ میں کوئی جگہ نہیں۔
غیر ضروری تناؤ سے بچیں:
تناؤ زندگی کا ایک ناگزیر حصہ ہے،تاہم اپنی زندگی میں غیر ضروری تناؤ لانے سے گریز کریں۔ اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں، اور کمزوریوں کی پرواہ نہ کریں۔ اپنے آپ کو بہتر بنائیں — ذہنی، جسمانی، جذباتی طور پر — اگر کوئی عمل آپ کے اہداف کے قریب پہنچنے کے لیے کام نہیں کرتا تو سادہ سی بات ہے کہ اسے چھوڑ دیں۔
ذہن سازی کی مشق کریں:
آپ کے ہر عمل کا تعلق آپ کی سوچ سے ہوتا ہے،اس لئے اپنے ذہن کی مضبوطی پر توجہ دیں،دوسرے لفظوں میں اپنی ذہن سازی کریں،جس سے فیصلہ کن لمحوں میں آپ کا نروس سسٹم مضبوظ رہتا ہے اور آپ اس سخت ماحول میں بھی ثابت قدم رہتے ہیں۔ لہذا اس پر کام جاری رکھیں ،آہستہ آہستہ آپ کو خود آگاہی حاصل ہو جائے گی،جو آپ کے کاموں میں آسانی کا باعث بنے گی۔
فعال ہو جاؤ!
سست اور غیر فعال لوگ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور معاشرہ بہت آگے نکل جاتا ہے،اس لئے اس معاشرے میں زندہ رہنے کے لئے ،دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے فعال ہو جائیں،اپنے کام کرنے کے لئے ہر دم تیار رہیں،باقاعدگی سے ورزش شروع کریں، یا گاڑی چلانے کے بجائے کچھ وقت پیدل چلنے کی عادت ڈالیں،آپ کو زمانہ ہرا نہیں سکتا!
شخصیت سازی میں گفتگو اور اظہارِ خیال کی صلاحیت بھی اہم ہے۔ بااعتماد انداز میں بات کرنا، اختلافِ رائے کو برداشت کرنا اور مؤثر انداز میں اپنے خیالات پیش کرنا فرد کو سماجی طور پر مضبوط بناتا ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی صحت، ذہنی سکون اور اخلاقی اقدار کا توازن بھی ایک مکمل شخصیت کی بنیاد ہے۔
آخر میں، یہ کہنا درست ہوگا کہ شخصیت سازی ایک دن کا کام نہیں بلکہ ایک عمر بھر جاری رہنے والا عمل ہے۔ جو فرد خود کو بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھتا ہے، وہ نہ صرف اپنی زندگی میں کامیاب ہوتا ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک مثبت مثال بن جاتا ہے۔
نوید احمد، ایڈیٹر انچیف جہلم لائیو، ایک تجربہ کار صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ متنوع موضوعات پرمعیاری تحریریں پیش کرتے ہیں۔ دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور ڈیجیٹل صحافت میں ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے ہیں،جہلم لائیو کا تمام مواد ان کی ادارت میں شائع کیا جاتا ہے،زیر نظر مضمون بھی ان کا تحریر کردہ ہے۔