محمد ریحان ارشد: جہلم سے عالمی ویزا کنسلٹنسی تک 16 سالہ کامیاب سفر
ویزا کنسلٹنسی کا سولہ سالہ سفر
جہلم میں ویزا Consultancyکے ھوالے سے کافی لوگ کام کر رہے ہیں۔۔ انہی نمایاں ناموں میں محمد ریحان ارشد بھی شامل ہیں، جو گزشتہ سولہ برس سے ویزا کنسلٹنسی کے شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور ہزاروں پاکستانی طلبہ، پیشہ ور افراد اور خاندانوں کو بیرونِ ملک تعلیم، روزگار اور سفر کے مواقع فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
محمد ریحان ارشد فروری 1988 میں ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق جہلم کی معروف فیملی سے ہے، جو کئی دہائیوں سے تعلیم، قانون، بینکاری اور سماجی خدمات کے شعبوں میں اپنی پہچان رکھتی ہے۔
ان کے والد محمد ارشد احمد ایک تجربہ کار بینکر رہے، جبکہ ان کے نانا مرزا عبدالغفور بیگ مرحوم ایڈوکیٹ سپریم کورٹ تھے، جنہیں قانونی حلقوں میں عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ایک تعلیم یافتہ اور باوقار خاندانی ماحول نے محمد ریحان ارشد کی شخصیت اور پیشہ ورانہ سوچ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیم
محمد ریحان ارشد نے اپنی اعلیٰ تعلیم ACCA تک حاصل کی۔ اکاؤنٹنگ، فنانس اور بزنس مینجمنٹ سے متعلق اس پیشہ ورانہ تعلیم نے انہیں تجزیاتی سوچ، مالی نظم و ضبط اور کاروباری منصوبہ بندی کی مہارتیں فراہم کیں، جن سے بعد ازاں ان کے کاروباری سفر کو بھی تقویت ملی۔
ویزا کنسلٹنسی کا آغاز
سال 2010 میں محمد ریحان ارشد نے ویزا کنسلٹنسی کے شعبے میں قدم رکھا۔ اس وقت پاکستان میں بیرونِ ملک تعلیم اور امیگریشن سے متعلق آگاہی نسبتاً محدود تھی، جبکہ مستند رہنمائی فراہم کرنے والے ادارے بھی کم تھے۔
انہوں نے ابتدا ہی سے اس شعبے میں شفافیت، درست معلومات اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کو اپنی ترجیح بنایا۔ ان کا مقصد صرف درخواستیں جمع کروانا نہیں بلکہ ہر امیدوار کو اس کی تعلیمی قابلیت، مالی حالات اور مستقبل کے اہداف کے مطابق مناسب رہنمائی فراہم کرنا تھا۔
Linked Aims International کا قیام
اپنے تجربے کو مزید منظم اور پیشہ ورانہ شکل دینے کے لیے محمد ریحان ارشد نے 2011 میں Linked Aims International (Pvt.) Limited کی بنیاد رکھی۔
کمپنی نے مختصر عرصے میں طلبہ، پروفیشنلز اور فیملیز کے درمیان اعتماد حاصل کیا اور مختلف ممالک کے لیے ویزا کنسلٹنسی کی خدمات فراہم کرنا شروع کیں۔

سولہ سالہ تجربہ
گزشتہ 16 برس کے دوران محمد ریحان ارشد نے مختلف اقسام کے ویزوں پر کام کیا، جن میں شامل ہیں:
* اسٹوڈنٹ ویزا
* وزٹ ویزا
* Skilled Worker Visa
* فیملی ویزا
* دیگر امیگریشن کیٹیگریز
ان کے مطابق ہر کیس منفرد ہوتا ہے، اس لیے ہر درخواست گزار کو انفرادی بنیاد پر مشورہ دینا کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔تاہم وہ کہتے ہیں کہDone Baseوالا جادو کا چراغ ان کے پاس نہیں ہے۔
مضمون پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں:
جہلم سے 50 ہزار میں پورا پاکستان گھومیں: بجٹ ٹریول گائیڈ
کامیابی کا تناسب
محمد ریحان ارشد کے مطابق ان کی فرم کا کامیابی کا تناسب 70 فیصد سے زائد رہا ہے، جو ویزا کنسلٹنسی جیسے پیچیدہ شعبے میں ایک قابلِ ذکر کارکردگی سمجھی جاتی ہے۔
وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ درست دستاویزات، حقیقت پر مبنی معلومات اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری ہی کامیاب ویزا درخواست کی بنیاد بنتی ہے۔
Contact Him At:
سماجی خدمات میں دلچسپی
تاہم محمد ریحان ارشد صرف کاروباری شخصیت ہی نہیں بلکہ سماجی سرگرمیوں میں بھی بھرپور کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
وہ 2010 سے Lions Clubs International کے رکن ہیں۔ اس عالمی تنظیم کے ذریعے وہ مختلف سماجی، فلاحی اور کمیونٹی سروس منصوبوں میں حصہ لیتے رہے ہیں، جن کا مقصد معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔
جہلم چیمبر آف کامرس سے وابستگی
کاروباری شعبے کی نمائندگی کے لیے محمد ریحان ارشد 2012سے جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کارپوریٹ ممبر ہیں۔
کاروباری برادری میں ان کی سرگرمیوں اور خدمات کے اعتراف میں انہیں 2024 تا 2026کے لیے ایگزیکٹو ممبر منتخب کیا گیا۔
یہ ذمہ داری اس بات کا اظہار ہے کہ مقامی کاروباری برادری ان کی صلاحیتوں اور تجربے پر اعتماد رکھتی ہے۔
ای کامرس کمیٹی کے چیئرمین
محمد ریحان ارشد کوChairman Standing Committee for E-Commerce، Jhelum Chamber of Commerce & Industryبھی مقرر کیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل معیشت اور آن لائن کاروبار کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے وہ نوجوان کاروباری افراد کو ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور بین الاقوامی آن لائن مواقع سے متعلق رہنمائی فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
نوجوانوں کے لیے رہنمائی
محمد ریحان ارشد کا ماننا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم کامیابی کے لیے صرف خواب کافی نہیں بلکہ درست معلومات، مہارت، منصوبہ بندی اور مسلسل محنت بھی ضروری ہے۔
وہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ صرف سوشل میڈیا پر موجود معلومات پر انحصار نہ کریں بلکہ مستند ذرائع اور قانونی طریقہ کار کو ترجیح دیں۔یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔
دیانت داری کو اولین ترجیح
ویزا کنسلٹنسی کے شعبے میں بعض اوقات غیر حقیقی وعدے اور غلط معلومات بھی سامنے آتی ہیں، تاہم محمد ریحان ارشد کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ حقیقت پسندانہ مشورے دینے پر یقین رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق اگر کسی امیدوار کے امکانات کم ہوں تو اسے واضح طور پر آگاہ کرنا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ غیر ضروری امیدیں دلائی جائیں۔
مستقبل کا وژن
محمد ریحان ارشد مستقبل میں پاکستان خصوصاً جہلم کے نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی تعلیم، ہنر، روزگار، ای کامرس اور ڈیجیٹل مواقع کے بارے میں مزید آگاہی پیدا کرنے کے خواہاں ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ اگر نوجوان جدید مہارتیں حاصل کریں، عالمی معیار کی تعلیم اپنائیں اور قانونی راستوں سے آگے بڑھیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آخری بات
محمد ریحان ارشد کی پیشہ ورانہ زندگی اس بات کی مثال ہے کہ محنت، مستقل مزاجی، دیانت داری اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ کسی بھی شعبے میں کامیابی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ویزا کنسلٹنسی، سماجی خدمات، کاروباری قیادت اور ای کامرس کے فروغ میں ان کی خدمات انہیں جہلم کی نمایاں کاروباری شخصیات میں شامل کرتی ہیں۔
آج وہ نہ صرف ایک تجربہ کار ویزا کنسلٹنٹ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں بلکہ نوجوانوں کی رہنمائی، کاروباری ترقی اور کمیونٹی سروس کے میدان میں بھی اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں، جو مستقبل میں بھی جاری رہنے کی امید ہے۔
پس تحریر: زیر نظر آرٹیکل پروموشن نہیں بلکہ جہلم کے نوجوانوں کے لئے ایک گائیڈ ہے۔