جہلم پنڈ دادن خان سڑک: 6 سالہ تاخیر، عوامی اذیت اور ادھورے وعدے

جہلم پنڈ دادن خان سڑک کی خراب صورتحال اور تعمیر میں تاخیر

جہلم اور پِنڈ دادن خان کے درمیان واقع سڑک گزشتہ کئی برسوں سے تعمیر کے مراحل میں ہے، مگر یہ مراحل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ ابتدا میں اس منصوبے کو علاقے کی ترقی، سفری سہولت اور معاشی بہتری کی علامت قرار دیا گیا تھا۔ عوام کو امید دلائی گئی تھی کہ یہ شاہراہ نہ صرف دو تحصیلوں کو قریب لے آئے گی بلکہ کاروبار، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بھی بہتر ہوں گے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سڑک ایک ترقیاتی منصوبے سے زیادہ عوامی اذیت اور حکومتی بے حسی کی علامت بنتی جا رہی ہے۔

چھ سال ایک سڑک کی تعمیر کے لیے بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس مدت میں موٹرویز، پل، میٹرو سسٹمز اور پورے شہر تعمیر ہو جاتے ہیں، مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ چند کلومیٹر کی سڑک مکمل نہ ہو سکی۔ اس دوران حکومتیں بدلیں، نمائندے تبدیل ہوئے، وعدے نئے آئے، بیانات بدلے، مگر عوام کی تکلیف وہی رہی۔

اس سڑک پر سفر کرنے والے لوگ روزانہ گرد، ٹوٹ پھوٹ، حادثات اور طویل سفری مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ایمبولینسیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں، طلبہ روزانہ خطرناک راستوں سے گزرتے ہیں، کاروباری افراد کا وقت اور سرمایہ ضائع ہوتا ہے، جبکہ عام شہری ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ بارش کے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے جب سڑک کیچڑ، پانی اور ٹریفک جام کا منظر پیش کرتی ہے۔

یہ پوسٹ پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں:

چوہدری ندیم خادم اور مسٹر پتلو کا معاملہ: جہلم میں سوشل میڈیا وار اور اخلاقیات

حیران کن بات یہ ہے کہ ہر دور میں اس منصوبے کو “ترجیح” قرار دیا جاتا رہا، مگر ترجیح کبھی زمین پر نظر نہ آئی۔ عوام کے ذہن میں یہ سوال مسلسل موجود ہے کہ آخر ایک سڑک کیوں مکمل نہیں ہو سکتی؟ کیا مسئلہ فنڈز کا ہے؟ انتظامی نااہلی کا؟ سیاسی عدم دلچسپی کا؟ یا پھر ہماری مجموعی حکومتی سوچ کا، جہاں عوامی سہولتیں صرف تقریروں تک محدود رہ جاتی ہیں؟

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں ترقیاتی منصوبے اکثر سیاسی تشہیر کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ منصوبہ شروع کرنے والا اپنی تختی لگاتا ہے، اگلی حکومت نئی تختی لگا دیتی ہے، پھر آنے والے نمائندے دوبارہ افتتاحی بیانات دیتے ہیں، مگر سڑک وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ عوام کے لیے اصل اہمیت اس بات کی نہیں کہ منصوبہ کس نے شروع کیا، بلکہ اس بات کی ہے کہ وہ مکمل کب ہوگا۔

اس پورے معاملے میں ایک اور اہم پہلو انتظامی نگرانی کا بھی ہے۔ اگر ایک منصوبہ چھ سال تک زیر تعمیر رہے تو اس کا مطلب صرف تاخیر نہیں بلکہ کہیں نہ کہیں احتساب اور مانیٹرنگ کے نظام کی ناکامی بھی ہے۔ ترقیاتی کاموں میں شفافیت، ڈیڈ لائن، معیار اور جوابدہی کا فقدان ہمارے کئی علاقوں میں ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔

جہلم اور اس کے گردونواح کے لوگ ایک عرصے سے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے مسائل صرف الیکشن کے موسم میں اہم بنتے ہیں۔ وعدے کیے جاتے ہیں، جلسوں میں ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں، مگر جب ووٹ کا مرحلہ گزر جاتا ہے تو عوامی مشکلات بھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب لوگ صرف اعلانات سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس سڑک کی تاخیر صرف ایک انفراسٹرکچر مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس سوچ کی عکاسی بھی کرتی ہے جہاں عام آدمی کی روزمرہ تکلیف حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں رہتی۔ ترقی صرف بڑے دعووں، اشتہارات یا سوشل میڈیا پوسٹس کا نام نہیں۔ اصل ترقی وہ ہے جو ایک عام شہری کے سفر کو آسان بنائے، اس کا وقت بچائے، اس کی جان محفوظ کرے اور اس کے معیارِ زندگی کو بہتر بنائے۔

افسوس یہ بھی ہے کہ جب کبھی کوئی باہر سے آنے والا شخص اس صورتحال پر حیرت یا تنقید کا اظہار کرتا ہے تو مقامی سطح پر وقتی ہلچل ضرور پیدا ہوتی ہے، مگر کچھ دن بعد سب دوبارہ خاموش ہو جاتا ہے۔ حالانکہ یہ خاموشی ہی دراصل اس مسئلے کو طول دیتی ہے۔ اگر عوامی مسائل پر مسلسل اجتماعی آواز موجود نہ ہو تو ترقیاتی منصوبے اکثر فائلوں، بیانات اور سیاسی مصلحتوں کے درمیان دب جاتے ہیں۔

یہ سوال اب صرف ایک سڑک کا نہیں رہا بلکہ حکمرانی کے معیار کا بن چکا ہے۔ اگر ایک اہم رابطہ سڑک برسوں مکمل نہ ہو سکے تو عوام کا ریاستی اداروں اور نمائندوں پر اعتماد کیسے برقرار رہے گا؟ لوگ آخر کب تک یہ سنیں گے کہ “کام جاری ہے” جبکہ ان کی زندگیوں میں مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس منصوبے کو سیاسی مقابلے یا کریڈٹ کی جنگ سے نکال کر عوامی ضرورت کے طور پر دیکھا جائے۔ متعلقہ ادارے واضح ٹائم لائن دیں، تعمیراتی معیار پر نظر رکھیں، فنڈز کی شفاف تفصیلات سامنے لائیں اور سب سے بڑھ کر عوام کو یہ احساس دلائیں کہ ان کی مشکلات واقعی اہم ہیں۔

کیونکہ سڑکیں صرف اینٹ، پتھر اور تارکول سے نہیں بنتیں۔ سڑکیں دراصل ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا راستہ ہوتی ہیں۔ اور جب یہ راستہ برسوں تک ادھورا رہے تو صرف سفر مشکل نہیں ہوتا، لوگوں کے دلوں میں امید بھی ٹوٹنے لگتی ہے۔

نوید احمد، ایڈیٹر انچیف جہلم لائیو، ایک تجربہ کار صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ متنوع موضوعات پرمعیاری تحریریں پیش کرتے ہیں۔ دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور ڈیجیٹل صحافت میں ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے ہیں،جہلم لائیو کا تمام مواد ان کی ادارت میں شائع کیا جاتا ہے،زیر نظر مضمون بھی ان کا تحریر کردہ ہے۔