کیا شاندار چوک سے تحصیل روڈ کو پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص کرنا چاہیے؟ جانیں فوائد اور نقصانات
ذرا سوچیں، آپ شاندار چوک سے تحصیل روڈ کی طرف جا رہے ہیں، لیکن آگے ایک خوبصورت گیٹ لگا ہے اور اس کے بعد صرف پیدل چلنے والوں کو جانے کی اجازت ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں اس سے بازار کی رونق بڑھے گی، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ اس سے ٹریفک کا مسئلہ دوسرے علاقوں میں منتقل ہو جائے گا۔
تو کیا واقعی یہ فیصلہ جہلم شہر کے لیے فائدہ مند ہوگا، یا پھر نئی مشکلات پیدا کرے گا؟ آئیے دونوں پہلو دیکھتے ہیں۔
تحصیل روڈ کی موجودہ صورتحال
تحصیل روڈ جہلم شہر کی مصروف ترین سڑکوں میں شمار ہوتی ہے۔
یہاں روزانہ:
* سینکڑوں گاڑیاں گزرتی ہیں۔
* موٹر سائیکل سوار آتے جاتے ہیں۔
* پیدل چلنے والوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔
* دکانوں پر خریداروں کا مسلسل رش رہتا ہے۔
شام کے وقت یہ علاقہ خاص طور پر بہت مصروف ہو جاتا ہے۔یہاں بے شمار شہری شاپنگ کے لئے آتے ہیں۔
صرف پیدل چلنے والوں کے لیے راستہ بنانے کا خیال کیوں سامنے آتا ہے؟
دنیا کے کئی شہروں میں کچھ بازار ایسے ہیں جہاں گاڑیوں کا داخلہ محدود ہوتا ہے۔
اس کا مقصد ہوتا ہے:
* پیدل چلنے والوں کو محفوظ ماحول دینا۔
* خریداری کو آسان بنانا۔
* بازار کو خوبصورت بنانا۔
* ٹریفک کا دباؤ کم کرنا۔
جہلم میں بھی ضلعی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ تحصیل روڈ پر ایسا ماڈل آزمایا جا سکتا ہے۔
اس فیصلے کے ممکنہ فائدے
اگر منصوبہ اچھی پلاننگ کے ساتھ بنایا جائے تو کئی مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
پیدل چلنے والوں کو زیادہ تحفظ
اس وقت بازار میں چلتے ہوئے اکثر لوگوں کو گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے بچ کر گزرنا پڑتا ہے۔
اگر صرف پیدل راستہ ہو تو:
* بچوں کے لیے ماحول محفوظ ہوگا۔
* بزرگ آسانی سے چل سکیں گے۔
* خواتین زیادہ اطمینان سے خریداری کر سکیں گی۔
بازار کی رونق بڑھ سکتی ہے
جہاں لوگ سکون سے چلتے ہیں وہاں وہ زیادہ دیر رکتے بھی ہیں۔
اس سے:
* دکانوں پر گاہک زیادہ وقت گزار سکتے ہیں۔
* چھوٹے کاروبار کو فائدہ مل سکتا ہے۔
* فوڈ پوائنٹس اور کیفے زیادہ متوجہ کر سکتے ہیں۔
آلودگی اور شور میں کمی
گاڑیوں کی آمدورفت کم ہونے سے:
* دھواں کم ہوگا۔
* شور کم ہوگا۔
* ماحول نسبتاً خوشگوار محسوس ہوگا۔
لیکن ہر تصویر کا دوسرا رخ بھی ہوتا ہے
یہ منصوبہ صرف فوائد ہی نہیں، کچھ سوالات بھی پیدا کرتا ہے۔
ٹریفک کہاں جائے گی؟
اگر تحصیل روڈ بند کر دی جائے تو:
* باقی سڑکوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
* شاندار چوک پر رش مزید بڑھ سکتا ہے۔
* متبادل راستوں پر ٹریفک جام کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ سب کچھ پہلے سے ٹریفک پلان بنائے بغیر حل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
دکاندار کیا سوچتے ہیں؟
تمام دکاندار ایک جیسی رائے نہیں رکھتے ہیں۔
یہ مضمون پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں:
جہلم میں مون سون کی پہلی بارش کا الرٹ، شہری ہو جائیں تیار، محکمہ موسمیات نے کیا بتایا؟
کچھ کہتے ہیں:
* پیدل گاہک زیادہ آئیں گے۔
* بازار خوبصورت لگے گا۔
جبکہ کچھ کا خیال ہے:
* گاڑی نہ آنے سے خریدار دوسری مارکیٹ کا رخ کر سکتے ہیں۔
* سامان کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ مشکل ہو جائے گی۔
ایمبولینس اور ایمرجنسی گاڑیوں کا کیا ہوگا؟
اگر راستہ مکمل بند ہو جائے تو یہ سوال بھی اہم ہے۔
ضرورت پڑنے پر:
* ایمبولینس
* فائر بریگیڈ
* ریسکیو گاڑیاں
کس راستے سے فوری پہنچیں گی؟
اس لیے کسی بھی منصوبے میں ایمرجنسی رسائی لازمی رکھی جانی چاہیے۔
دنیا کے کئی شہروں میں ایسا ماڈل کامیاب رہا
کئی ممالک میں مرکزی بازاروں کو پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔
وہاں عام طور پر:
* مخصوص اوقات میں گاڑیوں کی اجازت ہوتی ہے۔
* صبح سامان اتارنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
* شام کے وقت صرف پیدل افراد داخل ہو سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے وہاں کاروبار بھی چلتا ہے اور عوام کو سہولت بھی ملتی ہے۔
جہلم میں اگر یہ منصوبہ بنے تو کن باتوں کا خیال رکھا جائے؟
صرف گیٹ لگا دینا کافی نہیں ہوگا۔
اس سے پہلے یہ اقدامات بہت ضروری ہیں۔
* مکمل ٹریفک اسٹڈی
* دکانداروں سے مشاورت
* شہریوں کی رائے
* متبادل راستوں کی منصوبہ بندی
* پارکنگ ایریا کا انتظام
* ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے خصوصی راستہ
کیا پہلے آزمائشی بنیاد پر آغاز ہونا چاہیے؟
کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ مستقل بندش سے پہلے ایک آزمائشی منصوبہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
مثلاً:
* صرف جمعہ، ہفتہ اور اتوار کی شام۔
* یا صرف چند گھنٹوں کے لیے۔
اگر نتائج مثبت ہوں تو بعد میں مستقل منصوبہ بنایا جا سکتا ہے۔
جہلم کے شہری کیا چاہتے ہیں؟
سوشل میڈیا اور عوامی گفتگو میں مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں:
* “بازار خوبصورت اور محفوظ ہو جائے گا۔”
دوسروں کا کہنا ہے:
* “پہلے ٹریفک کا متبادل حل نکالا جائے، پھر فیصلہ کیا جائے۔”
یعنی زیادہ تر لوگ منصوبے کی مخالفت یا حمایت سے پہلے بہتر پلاننگ دیکھنا چاہتے ہیں۔
دینہ، سوہاوہ اور دوسرے شہروں کے لیے بھی سبق
اگر جہلم میں ایسا منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو پھر جہلم کے دوسرے علاقوں دینہ ،سوہاوہ ،اور پی ڈی خان کے مصروف بازاروں میں بھیاس سٹڈی سے مدد لی جا سکتی ہے۔
لیکن ہر شہر کی ٹریفک، آبادی اور کاروباری حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے ایک ہی حل ہر جگہ مناسب نہیں ہو سکتا۔تاہم دوسری تحصیلوں میں بھی گیٹ لگانے سے پہلے حالات و واقعات کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔
بہرحال
بہرحال تحصیل روڈ کو صرف پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص کرنا ایک دلچسپ خیال ضرور ہے، لیکن اس کا فیصلہ صرف جذبات کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔
اگر ٹریفک ماہرین، دکاندار، شہری، ریسکیو ادارے اور ضلعی انتظامیہ مل کر مکمل منصوبہ بنائیں تو یہ اقدام شہر کی خوبصورتی اور شہری سہولت میں اضافہ کر سکتا ہے۔ لیکن اگر متبادل راستوں، پارکنگ اور ایمرجنسی رسائی کا خیال نہ رکھا گیا تو یہی منصوبہ نئی مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا شاندار چوک سے تحصیل روڈ تک گاڑیوں کا داخلہ بند کر کے اسے صرف پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص کر دینا چاہیے، یا موجودہ نظام میں بہتری لانا زیادہ بہتر حل ہے؟