DHQ ہسپتال جہلم: سہولیات، مسائل اور غریب عوام کے لیے امید کی کرن | مکمل گائیڈ

DHQ Hospital Jhelum main building and emergency ward entrance

جہلم DHQ ہسپتال

جہلم شہر کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال، جسے عام طور پر “DHQ ہسپتال جہلم” کہا جاتا ہے، ضلع کے سب سے اہم سرکاری طبی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ روزانہ ہزاروں مریض نہ صرف شہر بلکہ دینہ، سوہاوہ، پنڈ دادن خان، للہ، کالا گجراں، چوٹالہ، سرائے عالمگیر اور دیگر دیہی علاقوں سے بھی علاج کے لیے یہاں آتے ہیں۔

جہلم کے عوام کے لیے یہ ہسپتال صرف ایک عمارت نہیں بلکہ امید، علاج اور زندگی کا ایک اہم مرکز ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس ہسپتال میں کئی نئی سہولیات شامل کی گئیں، مگر بڑھتی آبادی اور مریضوں کے دباؤ نے اس ادارے کے لیے نئے چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔جن سے نبرد آزما ہونا بہت ضروری ہے۔

یہ مکمل گائیڈ DHQ ہسپتال جہلم کے مختلف شعبوں، سہولیات، مسائل، عوامی تجربات اور مستقبل کی ضروریات پر روشنی ڈالتی ہے۔

DHQ ہسپتال جہلم کہاں واقع ہے؟

DHQ ہسپتال جہلم شہر کے مرکزی علاقے جادہ میں واقع ہے اور شہر کے تقریباً ہر حصے سے یہاں پہنچنا نسبتاً آسان سمجھا جاتا ہے۔ جی ٹی روڈ، سول لائن، مشین محلہ اور ریلوے روڈ سے آنے والے شہری باآسانی یہاں پہنچ سکتے ہیں۔

یہ ہسپتال ضلع جہلم کے سرکاری ہیلتھ سسٹم کا مرکزی ادارہ تصور کیا جاتا ہے جہاں ایمرجنسی، سرجری، میڈیکل، گائنی، بچوں کے امراض اور دیگر اہم شعبے موجود ہیں۔

DHQ ہسپتال کی تاریخ

جہلم کا یہ سرکاری ہسپتال پہلے سول لائن جہلم پر قائم کیا گیا تھا.پھر 1964 میں موجودہ جگہ موضع جادہ میں دو مربع کے قریب شاملاتی رقبہ اور معروف سوشل ورکر چوہدری ساجد امین کے دادا حاجی محمد حیات نے ذاتی طور پر 16کنال جگہ ہسپتال کے لئے عطیہ کی.جہاں ہسپتال کی عمارت قائم کی گئی.اس جگہ پر یہ ہسپتال کئی دہائیوں سے عوام کو طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ ابتدا میں اس کی گنجائش 250 بیڈ تک محدود تھی لیکن وقت کے ساتھ مریضوں کی تعداد بڑھتی گئی، جس کے بعد مختلف حکومتوں نے اس میں توسیعی منصوبے بھی شامل کیے۔اور آج 400 بیڈز کا یہ ہسپتال اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے.

ماضی میں یہ ہسپتال صرف بنیادی علاج تک محدود سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہاں جدید مشینری، لیبارٹریز اور خصوصی وارڈز بھی قائم کیے جا چکے ہیں۔

ایمرجنسی وارڈ: سب سے مصروف شعبہ

DHQ ہسپتال جہلم کا ایمرجنسی وارڈ دن رات فعال رہتا ہے۔ ٹریفک حادثات، دل کے مریض، بخار، سانس کی تکلیف اور دیگر ہنگامی کیسز سب سے پہلے اسی شعبے میں لائے جاتے ہیں۔

خاص طور پر جی ٹی روڈ اور موٹروے کے قریب ہونے کی وجہ سے حادثات کے مریض بھی بڑی تعداد میں یہاں منتقل کیے جاتے ہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایمرجنسی میں مریضوں کا دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ عملے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گائنی اور میٹرنٹی سروسز

جہلم اور گردونواح کی ہزاروں خواتین DHQ ہسپتال میں زچگی اور دیگر طبی مسائل کے علاج کے لیے آتی ہیں۔ یہاں گائنی وارڈ، لیبر روم اور آپریشن تھیٹر کی سہولت موجود ہے۔

دیہی علاقوں کی خواتین کے لیے یہ ہسپتال انتہائی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ نجی ہسپتالوں کے اخراجات اکثر ان کی استطاعت سے باہر ہوتے ہیں۔

بچوں کے امراض کا شعبہ

بچوں کے لیے قائم شعبہ بھی کافی مصروف رہتا ہے۔ موسمی بخار، نمونیا، الرجی اور دیگر بیماریوں میں والدین اپنے بچوں کو DHQ ہسپتال لے کر آتے ہیں۔

اگرچہ ڈاکٹروں کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر مریض کو فوری توجہ دی جائے، مگر مریضوں کی بڑھتی تعداد بعض اوقات مسائل پیدا کر دیتی ہے۔اس میں بہتری کی کافی گنجائش ہے۔

یہ تحریر پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں:

جہلم کی گرمی میں ٹھنڈا اور ہائیڈریٹ رہنے کے لیے بہترین پھل (ہیٹ ویو اسپیشل گائیڈ)

لیبارٹری اور ٹیسٹ کی سہولیات

DHQ ہسپتال جہلم میں مختلف طبی ٹیسٹوں کی سہولت موجود ہے، جن میں:

* خون کے ٹیسٹ
* شوگر ٹیسٹ
* ایکسرے
* الٹراساؤنڈ
* ECG
* سٹی اسکین
* MRI
* بعض اسپیشل لیبارٹری ٹیسٹ

شامل ہیں۔

عوامی حلقوں کے مطابق سرکاری ہسپتال میں کم خرچ یا مفت ٹیسٹ کرانے کے لئے بہرحال کافی دوڑ دھوپ کرنی پڑتی ہے۔

مفت ادویات: حقیقت یا مسئلہ؟

سرکاری پالیسی کے مطابق DHQ ہسپتال میں کئی ادویات مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے، مگر بعض مریض شکایت کرتے ہیں کہ تمام دوائیں دستیاب نہیں ہوتیں اور انہیں باہر سے خریدنا پڑتی ہیں۔

لیکن یہ مسئلہ صرف جہلم ہی نہیں بلکہ پاکستان کے بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں دیکھا جاتا ہے۔

ڈاکٹروں اور طبی عملے کا کردار

DHQ ہسپتال جہلم میں کئی تجربہ کار ڈاکٹر، نرسیں اور پیرامیڈیکل اسٹاف خدمات انجام دیتے ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود عملہ روزانہ ہزاروں مریضوں کو سنبھالتا ہے۔

بعض اوقات کئی ناخوشگوار واقعات بھی پیش آ جاتے ہیں،جس میں عملے کے ناگوار رویے کی شکایات دیکھنے کو ملتی ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ یہاں پریشان حال لوگ اپنے علاج کے لئے آتے ہیں۔اس لئے سخت رویہ ان کو مزید پریشان کرتا ہے۔

مریضوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

اگرچہ DHQ ہسپتال ضلع کے لیے اہم طبی مرکز ہے، لیکن عوام کو بعض مشکلات کا سامنا بھی رہتا ہے، جن میں:

1. رش اور انتظار

او پی ڈی میں لمبی قطاریں اکثر مریضوں کے لیے پریشانی بنتی ہیں۔انہیں اپنی پرچی حاصل کرنے کے لئے کافی تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔

2. صفائی کے مسائل

ہسپتال میں صفائی کا کافی اچھا بندوبست کیا گیا ہے۔لیکن بعض اوقات واش رومز اور وارڈز میں صفائی کے حوالے سے شکایات سامنے آتی ہیں۔

3. ادویات کی کمی

تمام دوائیں ہسپتال میں دستیاب نہ ہونے کے باعث مریضوں کو باہر سے خریدنا پڑتی ہیں۔جو گریب اور مجبور مریضوں کی جیب پر کافی بوجھ ہے۔

4. پارکنگ اور ٹریفک

ہسپتال کے اطراف ٹریفک اور پارکنگ کا مسئلہ بھی شہریوں کے لیے پریشانی بنتا جا رہا ہے۔پارکنگ کنٹرول کرنے والے عملے کا آئے روز مریضوں اور لواحقین کے ساتھ جھگڑا دیکھنے کو ملتا ہے،خصوصی طور پر ایمرجنسی میں آنے والے مریضواں کو یہ لوگ کافی تنگ کرتے ہیں۔

DHQ ہسپتال اور غریب عوام

جہلم کے متوسط اور غریب طبقے کے لیے DHQ ہسپتال ایک نعمت سے کم نہیں۔ نجی ہسپتالوں کے مہنگے اخراجات کے مقابلے میں سرکاری ہسپتال غریب لوگوں کے لیے علاج کی امید فراہم کرتا ہے۔

بہت سے مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جو روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور مہنگا علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ان کو یہ ہسپتال کافی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

کیا DHQ ہسپتال کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے؟

ماہرین کے مطابق جہلم کی بڑھتی آبادی کو دیکھتے ہوئے DHQ ہسپتال میں مزید توسیع کی ضرورت ہے۔ نئے وارڈز، جدید مشینری، مزید ڈاکٹروں کی بھرتی اور ڈیجیٹل سسٹم مستقبل کی اہم ضروریات سمجھی جا رہی ہیں۔

کیتھ لیب کا معاملہ:

گزشتہ دور حکومت میں اس ہسپتال میں 50 بیڈز پر مشتمل ٹراما سنٹرکا منصوبہ شروع کیا گیا تھا.لیکن موجودہ حکومت نے اس منصوبے کو کیتھ لیب میں تبدیل کر دیا ہے.واقفان ھال کا کہنا ہے کہ ٹراما سنٹر اس وقت ہسپتال کی سب سے اہم ضرورت ہے.کیونکہ اس میں فوری علاج کی سہولت موجود ہوتی ہے.جبکہ کیتھ لیب میں مریضوں کو مکمل علاج کی سہولت نہیں دی جاتی.صرف انجیو پلاسٹی اور انجیو گرافی کی سہولت دی جا رہی ہے.جبکہ اہم آپریشن کے لئے بھی کئی کئی مہینوں بعد کی تاریخ مریضوں کو دی جا تی ہے.جس کی وجہ سے غریب اور لاچار مریض خوار ہورہے ہیں.

انجمن بہبود مریضاں:

چوہدری ساجد امین کے والد مرحوم ھاجی محمد امین نے1985میں یہاں ایک تنظیم انجمن بہبود مریضاں قائم کی.جس کا بنیادی مقصد اس ہسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال تھا.انہوں نے اپنی زندگی میں یہ کام خوش اسلوبی سے سرانجام دیا.اب ان کے صاحبزادے چوہدری ساجد امین گزشتہ 7سال سے اس انجمن کے بینر تلے غریب اور بے کس مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں.

کئی شہری یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ:

* کینسر اسکریننگ سہولت دی جائے
* ٹراما سنٹر کی سہولت فراہم کی جائے
* مزید ICU بیڈز شامل کیے جائیں
* صفائی اور انتظامیہ کو بہتر بنایا جائے

کورونا دور میں DHQ ہسپتال کا کردار

کورونا وبا کے دوران DHQ ہسپتال جہلم نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر طبی عملہ فرنٹ لائن پر موجود رہا۔اور عوام کو بر وقت طبی امداد فراہم کرتا رہا۔

چنانچہ اس پرفارمنس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرکاری ہسپتال کسی بھی بحران میں عوام کی پہلی امید ہوتے ہیں۔

مستقبل کی امیدیں

جہلم کے عوام چاہتے ہیں کہ DHQ ہسپتال جدید سہولیات سے آراستہ ہو اور یہاں مریضوں کو بہتر ماحول میسر آئے۔

اگر حکومت، انتظامیہ اور مقامی نمائندے سنجیدگی سے توجہ دیں تو یہ ہسپتال نہ صرف جہلم بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مثالی طبی مرکز بن سکتا ہے۔

آخری بات

DHQ ہسپتال جہلم ضلع کے لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کی اہم سہولت ہے۔ یہ ہسپتال روزانہ ہزاروں مریضوں کو علاج فراہم کرتا ہے اور غریب عوام کے لیے امید کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ مسائل موجود ہیں، مگر بہتر منصوبہ بندی، اضافی وسائل اور جدید سہولیات کے ذریعے اسے مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

جہلم کے لوگوں کے لیے DHQ ہسپتال صرف علاج کی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسا ادارہ ہے جس سے ہزاروں خاندانوں کی امیدیں وابستہ ہیں۔

 

نوید احمد، ایڈیٹر انچیف جہلم لائیو، ایک تجربہ کار صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ متنوع موضوعات پرمعیاری تحریریں پیش کرتے ہیں۔ دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور ڈیجیٹل صحافت میں ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے ہیں،جہلم لائیو کا تمام مواد ان کی ادارت میں شائع کیا جاتا ہے۔