راجہ پورس: جہلم کی تاریخ کا وہ عظیم اور خوددار حکمران جس نے سکندرِ اعظم کو حیران کر دیا
جہلم کی تاریخِ میں ایک شخصیت ایسی بھی ہے جس نے اپنے کردار، بہادری اور خودداری کے ذریعے صدیوں سے اپنی پہچان قائم رکھیہے۔ اس شخصیت کا نام راجہ پورس ہے، جسے آج بھی جہلم کی تاریخ اور ثقافت کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ “Raja Porus Jhelum” صرف ایک تاریخی حوالہ نہیں بلکہ مزاحمت، غیرت اور مقامی شناخت کی علامت بن چکا ہے۔
جہلم کے لوگ آج بھی اس داستان کو فخر سے بیان کرتے ہیں کہ اسی دھرتی کے بیٹے ایک مقامی بادشاہ نے دنیا کے عظیم فاتح سمجھے جانے والے سکندر اعظم کا مقابلہ کیا تھا۔ اگرچہ اس جنگ کے مختلف پہلوؤں پر مؤرخین میں اختلاف پایا جاتا ہے، مگر اس بات پر تقریباً سب متفق ہیں کہ راجہ پورس نے اپنی بہادری اور حکمتِ عملی سے سکندر اعظم کو حیران کر دیا تھا۔
راجہ پورس کون تھا؟
راجہ پورس، جسے یونانی تاریخ میں “Porus” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، قدیم پنجاب کا ایک طاقتور حکمران تھا۔ مؤرخین کے مطابق اس کی سلطنت دریائے جہلم اور چناب کے درمیانی علاقے تک پھیلی ہوئی تھی۔ بعض روایات کے مطابق اس کا تعلق “پورو” قبیلے سے تھا، جبکہ کچھ تاریخ دان انہیں قدیم ہندوستانی راجاؤں میں شمار کرتے ہیں۔
یہ پوسٹ پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں:
جہلم کے عظیم مفکر سید علی عباس جلالپوری کون تھے؟ مکمل سوانح حیات اور فلسفہ
اس دور میں پنجاب مختلف چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا، مگر راجہ پورس اپنی فوجی طاقت اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا تھا۔ اس کی فوج میں گھڑ سوار، پیدل سپاہی اور سب سے اہم جنگی ہاتھی شامل تھے، جو اس زمانے میں جنگ کا خوفناک ہتھیار سمجھے جاتے تھے۔
سکندر اعظم کی برصغیر آمد:
چوتھی صدی قبل مسیح میں مقدونیہ کا بادشاہ سکندر اعظم دنیا فتح کرنے کے خواب کے ساتھ ایشیا کی جانب بڑھ رہا تھا۔ فارس، مصر اور کئی علاقوں کو فتح کرنے کے بعد اس کی نظریں برصغیر پر تھیں۔ جب وہ موجودہ پاکستان کے علاقوں تک پہنچا تو اس نے مختلف مقامی حکمرانوں کو اپنی اطاعت قبول کرنے کا پیغام بھیجا۔
کئی حکمرانوں نے سیاسی مصلحت کے تحت اس کی اطاعت قبول کر لی، مگر راجہ پورس نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ یہی فیصلہ بعد میں تاریخ کی مشہور جنگوں میں سے ایک جنگ کا سبب بنا۔
جنگِ جہلم: تاریخ کا یادگار معرکہ:
326 قبل مسیح میں دریائے جہلم کے کنارے سکندر اعظم اور راجہ پورس کی فوجوں کے درمیان جنگ ہوئی، جسے تاریخ میں “Battle of Hydaspes” کہا جاتا ہے۔ “Hydaspes” دراصل دریائے جہلم کا یونانی نام تھا۔
یہ جنگ صرف دو بادشاہوں کے درمیان نہیں بلکہ دو مختلف تہذیبوں، جنگی حکمتِ عملیوں اور نظریات کا مقابلہ بھی تھی۔ سکندر کی فوج جدید تربیت یافتہ تھی، جبکہ راجہ پورس مقامی جغرافیہ اور جنگی ہاتھیوں کے استعمال میں مہارت رکھتے تھے۔
مؤرخین کے مطابق جنگ کے دوران شدید بارش اور دریائی صورتحال نے میدانِ جنگ کو مزید مشکل بنا دیا تھا۔ سکندر نے رات کی تاریکی میں دریا عبور کر کے اچانک حملہ کیا، مگر اس کے باوجود راجہ پورس نے بھرپور مزاحمت کی۔
راجہ پورس کی بہادری:
تاریخی روایات کے مطابق راجہ پورس نہایت بلند قامت، بہادر اور باوقار شخصیت کا مالک تھا۔ جنگ کے دوران اس نے خود میدان میں رہ کر اپنی فوج کی قیادت کی۔ اس کے جنگی ہاتھیوں نے یونانی فوج میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔
اگرچہ آخرکار سکندر اعظم کو جنگ میں برتری حاصل ہوئی، مگر راجہ پورس کی مزاحمت نے اسے شدید متاثر کیا۔ یونانی مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب زخمی حالت میں راجہ پورس کو سکندر کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے پوچھا:
“تمہارے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے؟”
راجہ پورس نے جواب دیا:
“ وہی سلوک جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتاہے۔”
کہا جاتا ہے کہ اس جواب نے سکندر اعظم کو اتنا متاثر کیا کہ اس نے نہ صرف راجہ پورس کی سلطنت واپس کر دی بلکہ مزید علاقے بھی اس کے حوالے کر دیے۔
کیا واقعی راجہ پورس ہارا تھا؟
یہ سوال آج بھی تاریخ دانوں کے درمیان بحث کا موضوع ہے۔ یونانی تاریخ میں سکندر کو فاتح قرار دیا جاتا ہے، مگر کئی مقامی مؤرخین کا خیال ہے کہ جنگ مکمل شکست نہیں تھی بلکہ ایک سخت اور مہنگا معرکہ تھا جس نے سکندر کی فوج کا حوصلہ کمزور کر دیا۔
بعض تاریخی روایات کے مطابق اس جنگ کے بعد سکندر کی فوج نے مزید مشرق کی طرف بڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ اگرچہ اس کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں، مگر راجہ پورس کی مزاحمت کو بھی اس کی اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔
جہلم اور راجہ پورس کا تعلق:
آج بھی جہلم کے مختلف علاقوں میں راجہ پورس سے متعلق داستانیں سنائی جاتی ہیں۔ مقامی سطح پر یہ یقین پایا جاتا ہے کہ جنگِ جہلم اسی خطے میں ہوئی تھی، جس کی وجہ سے “Raja Porus Jhelum” ایک اہم تاریخی شناخت بن چکا ہے۔
جہلم کی تاریخ پر لکھنے والے کئی مقامی محققین اور ادیب اس جنگ کو علاقے کی تاریخی اہمیت کا مرکزی باب قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ بہت سی تاریخی نشانیاں ختم ہو چکی ہیں، مگر عوامی یادداشت میں راجہ پورس آج بھی زندہ ہے۔
تاریخ اور حقیقت کے درمیان:
یہ بھی ضروری ہے کہ راجہ پورس کی تاریخ کو جذبات کے بجائے تحقیق کی روشنی میں دیکھا جائے۔ قدیم تاریخ کے کئی واقعات مختلف مؤرخین نے اپنے اپنے زاویے سے لکھے، جس کی وجہ سے بعض تفصیلات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر، کچھ مؤرخین راجہ پورس کو مکمل فاتح نہیں مانتے، جبکہ کچھ انہیں مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح جنگ کی اصل جگہ، فوج کی تعداد اور نتائج کے بارے میں بھی مختلف آراء موجود ہیں۔
لیکن ایک حقیقت تقریباً سب تسلیم کرتے ہیں: راجہ پورس نے سکندر اعظم جیسے طاقتور فاتح کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مقابلہ کیا، اور یہی چیز انہیں تاریخ میں منفرد مقام دیتی ہے۔
وفات:
معروف تاریخ دان ڈاکٹر بدھا پرکاش پٹیالہ کے مطابق راجہ پورس کی وفات317ق م میں ہوئی اور پھراس کی جگہ اس کے بھائی کا پوتا حکمران بنا۔
جدید دور میں راجہ پورس کی اہمیت:
آج کے دور میں راجہ پورس کی شخصیت صرف ایک تاریخی کردار نہیں رہی بلکہ یہ مقامی شناخت، خودداری اور مزاحمت کی علامت بن چکی ہے۔ جہلم کے نوجوان، ادیب اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے لوگ اس داستان کو اپنی ثقافتی وراثت سمجھتے ہیں۔
سوشل میڈیا، مقامی تحقیق، ڈاکومنٹریز اور تاریخی مباحثوں میں “Raja Porus Jhelum” کا ذکر بڑھتا جا رہا ہے۔ اس سے نئی نسل میں اپنی تاریخ جاننے کا رجحان بھی پیدا ہو رہا ہے۔
آخری بات:
راجہ پورس کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تاریخ صرف طاقتور فاتحین کے ناموں سے نہیں بنتی بلکہ ان لوگوں سے بھی بنتی ہے جو اپنے وقار، سرزمین اور اصولوں کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں۔
جہلم کی سرزمین آج بھی اس تاریخی داستان کی گواہ سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ صدیوں گزر چکی ہیں، مگر “Raja Porus Jhelum” کا نام اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں بہادری، مزاحمت اور عزتِ نفس کی علامت کے طور پر زندہ ہے۔
نوید احمد، ایڈیٹر انچیف جہلم لائیو، ایک تجربہ کار صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ متنوع موضوعات پرمعیاری تحریریں پیش کرتے ہیں۔ دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور ڈیجیٹل صحافت میں ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے ہیں،جہلم لائیو کا تمام مواد ان کی ادارت میں شائع کیا جاتا ہے،زیر نظر مضمون بھی ان کا تحریر کردہ ہے۔