جہلم کے موضع کنتریلی میں فجر کے وقت ڈکیتی کی سنگین واردات، بزرگ خاتون پر تشدد، لاکھوں روپے لوٹ لیے گئے

Graphic representation of police investigation after a major robbery incident in Kantarili village, Jhelum

جہلم کے نواحی علاقے موضع کنتریلی میں ایک مرتبہ پھر ڈکیتی کی سنگین واردات نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تھانہ صدر کے علاقہ کنتریلی میں چار مسلح ملزمان فجر کے وقت ایک گھر میں داخل ہوئے، اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا، ایک عمر رسیدہ خاتون کو بھی زخمی کیا اور لاکھوں روپے مالیت کی نقدی، غیر ملکی کرنسی، طلائی زیورات اور موبائل فون لوٹ کر فرار ہو گئے۔

اہم بات یہ ہے کہ اسی خاندان کے ملحقہ گھر میں تقریباً چھ ماہ قبل بھی ڈکیتی کی واردات ہوئی تھی، تاہم اس کیس کے ملزمان تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔ مسلسل دو بڑی وارداتوں نے علاقے کے مکینوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور شہری پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

 فجر کے وقت خوفناک واردات

متاثرہ خاندان کے مطابق ڈکیت فجر کے وقت گھر میں داخل ہوئے۔ اس وقت اہل خانہ سو رہے تھے۔ ملزمان نے گھر میں گھستے ہی اہل خانہ کو یرغمال بنا لیا اور مزاحمت کرنے پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق ملزمان نہایت منظم انداز میں کارروائی کرتے رہے اور تقریباً تیس منٹ تک گھر کے اندر موجود رہے۔ اس دوران انہوں نے گھر کے مختلف کمروں کی تلاشی لی اور قیمتی سامان اکٹھا کیا۔

یہ مضمون پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں:

جہلم میں آن لائن کاروبار کا رجحان: خواتین اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع

اہل خانہ کے مطابق ملزمان نے نقدی، غیر ملکی کرنسی، طلائی زیورات اور موبائل فونز اپنے قبضے میں لے لیے۔ واردات کے دوران گھر میں موجود بزرگ خاتون کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے اہل علاقہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

تیس منٹ تک جاری رہنے والی کارروائی

علاقہ مکینوں کے مطابق سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ملزمان تقریباً آدھا گھنٹہ تک گھر کے اندر موجود رہے اور باآسانی اپنی کارروائی مکمل کر کے فرار ہو گئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ملزمان اتنی دیر تک ایک گھر میں موجود رہیں اور کسی قسم کا خوف محسوس نہ کریں تو یہ صورتحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں بڑھتی ہوئی وارداتیں لوگوں کے احساسِ تحفظ کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں اور رات کے اوقات میں خوف کی فضا مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔

 چھ ماہ میں دوسری بڑی واردات

اس واقعے نے اس لیے بھی زیادہ توجہ حاصل کی ہے کیونکہ متاثرہ خاندان پہلے بھی اسی نوعیت کی واردات کا شکار ہو چکا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق تقریباً چھ ماہ قبل متاثرہ شخص چوہدری عبدالمجید کے بھائی کے گھر میں بھی ڈکیتی ہوئی تھی۔ اس کیس میں بھی نامعلوم ملزمان قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔

اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر پہلی واردات کے ملزمان گرفتار ہو جاتے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں آتی تو شاید دوسری واردات رونما نہ ہوتی۔

یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا جرائم پیشہ عناصر کو قانون کا خوف باقی رہ گیا ہے یا نہیں۔

 شہریوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی

موضع کنتریلی اور اس کے گردونواح کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل جرائم کی وارداتوں نے ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔

لوگ رات کے وقت جاگنے پر مجبور ہیں، گھروں کی اضافی سکیورٹی پر اخراجات بڑھ رہے ہیں اور خاندانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔

متعدد شہریوں کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد پہلے ہی بنیادی سہولیات کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں، ایسے میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔

 پولیس کے لیے بڑا چیلنج

علاقے میں ہونے والی اس نئی واردات کے بعد ایک مرتبہ پھر پولیس کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ شہری توقع رکھتے ہیں کہ ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے جدید تفتیشی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔

یہ مضمون پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں:

جہلم پنڈ دادن خان سڑک: 6 سالہ تاخیر، عوامی اذیت اور ادھورے وعدے

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ایسے جرائم کی تحقیقات میں مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے جن میں مشتبہ افراد، مقامی روابط، موبائل ڈیٹا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد شامل ہوتے ہیں۔

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اس کیس کو معمول کی کارروائی سمجھنے کے بجائے خصوصی توجہ دی جائے تاکہ علاقے میں خوف کی فضا ختم ہو سکے۔

 دیہی علاقوں میں سکیورٹی کے سوالات

کنتریلی میں پیش آنے والا واقعہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

ماہرین کے مطابق دیہی آبادیوں میں اکثر گھروں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر کو بعض اوقات کارروائی کے لیے زیادہ وقت مل جاتا ہے۔

اسی لیے جدید نگرانی کے نظام، کمیونٹی واچ پروگرامز اور مقامی سطح پر رابطہ کاری کو بہتر بنانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

 شہریوں کی اپیل

متاثرہ خاندان اور اہل علاقہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واردات میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس کیس میں پیش رفت نہ ہوئی تو علاقے میں عوام کا اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف حالیہ واردات بلکہ چھ ماہ قبل ہونے والی ڈکیتی کی تحقیقات کو بھی منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔

آخری بات

موضع کنتریلی میں چھ ماہ کے دوران ایک ہی خاندان سے منسلک دو بڑی ڈکیتیوں نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فجر کے وقت گھر میں داخل ہو کر اہل خانہ پر تشدد، بزرگ خاتون کو زخمی کرنا اور لاکھوں روپے مالیت کا سامان لوٹ لینا ایک سنگین واقعہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اب تمام نظریں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہیں۔ شہری امید کر رہے ہیں کہ اس بار تحقیقات صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ملزمان کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ کیونکہ امن و امان صرف سرکاری اعداد و شمار سے نہیں بلکہ عام شہری کے احساسِ تحفظ سے قائم ہوتا ہے، اور اس وقت کنتریلی کے لوگ اسی احساسِ تحفظ کی بحالی کے منتظر ہیں۔

A serious armed robbery has once again raised concerns about public safety in Kantarili, a village located within the jurisdiction of Saddar Police Station, Jhelum.

According to local reports, four unidentified robbers entered the home of Chaudhry Abdul Majeed before dawn, assaulted family members, and reportedly subjected an elderly woman to violence before escaping with cash, foreign currency, gold jewellery, and mobile phones.

Residents say the robbers remained inside the house for nearly 30 minutes during the incident.

Similar Robbery Six Months Ago

The case has drawn particular attention because a similar robbery reportedly took place at the home of the victim’s brother around six months ago. Local people claim that no arrests have yet been made in that earlier case.

Residents Demand Action

The latest incident has increased fear and frustration among residents, who are calling for stronger security measures and swift action from law enforcement agencies.

Community members are urging Jhelum Police to identify and arrest those responsible and to improve safety in the area to prevent further criminal activity.