لندن سے دینہ زمین رجسٹری سروس شروع، اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری
کیا واقعی اب برطانیہ میں بیٹھا پاکستانی اپنی زمین کی رجسٹری پاکستان آئے بغیر کرا سکے گا؟
یہ سوال کئی برسوں سے لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں کے ذہن میں تھا۔ اب پنجاب بورڈ آف ریونیو اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) نے ایک ایسا نظام متعارف کرایا ہے جس سے یہ خواب حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
اگر آپ کا تعلق جہلم، دینہ، سوہاوہ، پنڈ دادن خان یا گردونواح سے ہے اور آپ کے رشتہ دار برطانیہ میں رہتے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے بہت اہم ہے۔
لندن میں بیٹھ کر پاکستان میں زمین کی رجسٹری
پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے ایک نیا طریقہ کار شروع کیا ہے۔
یہ مضمون پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں:
اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد پر قبضہ: جہلم میں 2026 کے تازہ حقائق اور قانونی بچاؤ
اس کے تحت برطانیہ میں موجود پاکستانی شہری اپنی جائیداد کی منتقلی کے بعض مراحل پاکستان آئے بغیر مکمل کر سکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق اس سہولت کا آغاز لندن سے کیا گیا ہے جبکہ دینہ جہلم اس منصوبے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
منصوبے کا افتتاح کس نے کیا؟
اس منصوبے کا افتتاح پنجاب کے سینئر حکام نے کیا۔
ان میں شامل ہیں:
* بورڈ آف ریونیو پنجاب کے سینئر ممبران
* اسسٹنٹ کمشنر دینہ
* پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) کے افسران
جس کے تحت سب رجسٹرار دینہ شمشیر حیدر رنجھا اور اسسٹنٹ کمشنر دینہ نے جہلم کی پہلی بین الاقوامی رجسٹری درج کی۔
جہلم اور دینہ کے لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا؟
جہلم اور دینہ کے ہزاروں خاندانوں کے عزیز برطانیہ میں رہتے ہیں۔جس کی وجہ سےاکثر لوگ صرف رجسٹری، انتقال یا زمین کے دوسرے کاغذات کے لیے ہزاروں میل کا سفر کرتے تھے۔
اگر یہ نظام مکمل طور پر کامیاب رہتا ہے تو لوگوں کو کئی سہولتیں مل سکتی ہیں۔
* پاکستان آنے کے اخراجات کم ہوں گے۔
* وقت کی بچت ہوگی۔
* قانونی عمل آسان ہوگا۔
* سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر کم لگیں گے۔
* خاندانوں کے لیے جائیداد کے معاملات جلد نمٹ سکیں گے۔
اوورسیز پاکستانیوں کا پرانا مسئلہ
جہلم، دینہ اور سوہاوہ اور پاکستان کے دیگر علاقوں کے بہت سے خاندان برطانیہ میں آباد ہیں۔
ایسے خاندانوں کو اکثر وراثت، خرید و فروخت یا زمین کی منتقلی کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
بعض لوگ صرف ایک دستخط کے لیے پاکستان آتے تھے۔
اس سفر پر لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے تھے۔
اسی لیے بیرون ملک پاکستانی کئی سال سے ایسی سہولت کا مطالبہ کر رہے تھے۔
لندن سے آغاز کیوں؟
برطانیہ میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد پنجاب خصوصاً جہلم، گجرات، منڈی بہاؤالدین اور میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھتی ہے۔
اسی وجہ سے لندن کو اس منصوبے کے آغاز کے لیے اہم مقام سمجھا جا رہا ہے۔
اس سے توقع کی جا رہی ہے کہ سب سے زیادہ فائدہ انہی علاقوں کے لوگوں کو ہوگا۔
مستقبل میں کن ممالک تک جا سکتا ہے؟
حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اگلے مرحلے میں اس سہولت کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تک بڑھانے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانی بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
شفافیت پر بھی زور
اس منصوبے کا ایک مقصد یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ زمین کی منتقلی کے عمل کو زیادہ شفاف بنایا جائے۔
ڈیجیٹل نظام سے ریکارڈ محفوظ رکھنے، تصدیق کے مراحل بہتر بنانے اور شہریوں کو آسان سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کن لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا؟
یہ منصوبہ خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے جو:
* برطانیہ میں مستقل رہتے ہیں۔
* جہلم، دینہ یا سوہاوہ میں زمین رکھتے ہیں۔
* وراثتی جائیداد کے معاملات چلا رہے ہیں۔
* پاکستان آئے بغیر قانونی کارروائی مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
* بار بار سفر کے اخراجات سے بچنا چاہتے ہیں۔
ابھی کن باتوں کا انتظار ہے؟
یہ منصوبہ یقیناً خوش آئند ہے، لیکن عام شہری یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ:
* کون سی رجسٹریاں اس نظام کے تحت ہوں گی؟
* درخواست دینے کا مکمل طریقہ کیا ہوگا؟
* کون سے کاغذات درکار ہوں گے؟
* تصدیق کیسے ہوگی؟
* سروس فیس کتنی ہوگی؟
امید ہے کہ متعلقہ ادارے جلد اس حوالے سے مکمل رہنمائی بھی جاری کریں گے تاکہ بیرون ملک پاکستانی آسانی سے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
جہلم لائیو کی رائے
جہلم، دینہ اور سوہاوہ کے ہزاروں خاندانوں کے لیے یہ پیش رفت امید کی ایک نئی کرن بن سکتی ہے۔ اگر یہ نظام کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو بیرون ملک پاکستانیوں کو صرف زمین کی رجسٹری یا انتقال کے لیے لمبا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ یہ سہولت عملی طور پر کتنی آسان، تیز اور قابل اعتماد ثابت ہوتی ہے۔اور حکام سے بھی التماس ہے کہ اس تمام منصوبے کو نا اہل اہلکاروں کی بجائے محنتی اور ہونہار عملے کے حوالے کیا جائے،تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو یہ سہولت بروقت ملے،اور ممکت خداداد کی نیک نامی ہو۔