میرا تا لدھڑ روڈ دینہ: ادھورا ترقیاتی منصوبہ اور عوام کی مشکلات | جہلم نیوز
ضلع جہلم کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور سڑکوں کی تعمیر کی خبریں آئے روز سننے کو ملتی ہیں۔ کہیں نئی سڑکیں بن رہی ہیں، کہیں پرانی شاہراہوں کی مرمت جاری ہے، اور کہیں رابطہ سڑکوں کو جدید معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ ان منصوبوں سے یقیناً عوام کو فائدہ پہنچتا ہے اور آمدورفت کے مسائل میں کمی آتی ہے۔
تاہم تحصیل دینہ کے بعض علاقے آج بھی بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی کا شکار ہیں۔ ان میں میرا سے لدھڑ تک روڈ ایک نمایاں مثال ہے، جو کئی سال سے مقامی آبادی کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق گزشتہ دور حکومت میں اس سڑک کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا تھا، لیکن یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔ سڑک کا صرف ایک حصہ یا اصطلاحاً “ہاف سائیڈ” تعمیر کی گئی، جبکہ باقی حصہ ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ بدقسمتی سے جو حصہ تعمیر ہوا تھا، وہ بھی آج ٹوٹ پھوٹ اور خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے۔
نامکمل منصوبہ، نامکمل سہولت
کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس کی تکمیل پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی منصوبہ آدھا مکمل ہو اور آدھا ادھورا رہ جائے تو اس کے فوائد بھی آدھے رہ جاتے ہیں۔
میرا تا لدھڑ روڈ کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جب تعمیراتی کام شروع ہوا تو امید پیدا ہوئی کہ علاقے کے لوگوں کو بہتر سفری سہولت میسر آئے گی۔ کسانوں، طلبہ، ملازمین اور روزانہ سفر کرنے والے افراد کے لیے یہ سڑک ایک اہم رابطہ راستہ ہے۔
لیکن منصوبہ مکمل نہ ہونے کے باعث نہ صرف عوام کی توقعات پوری نہ ہو سکیں بلکہ اب تعمیر شدہ حصہ بھی اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے۔
ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑک
علاقہ مکینوں کے مطابق بارشوں، بھاری ٹریفک اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے سڑک کے مختلف حصوں میں گڑھے پڑ چکے ہیں۔
متعدد مقامات پر سڑک کی سطح خراب ہو چکی ہے جس کے باعث:
* گاڑیوں کو نقصان پہنچتا ہے
* موٹر سائیکل سواروں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں
* سفر کا وقت بڑھ جاتا ہے
* حادثات کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے
دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے سڑک صرف سفر کا ذریعہ نہیں بلکہ روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی کا اہم راستہ بھی ہوتی ہے۔
جب سڑک خراب ہو تو اس کے اثرات زندگی کے تقریباً ہر شعبے پر پڑتے ہیں۔
تحصیل دینہ کے عوام کا سوال
علاقے کے عوام ایک جائز سوال اٹھا رہے ہیں۔
جب ضلع جہلم کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں تو میرا تا لدھڑ روڈ کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟
لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر دیگر علاقوں میں نئی سڑکیں بن سکتی ہیں تو اس اہم رابطہ سڑک کی تکمیل اور مرمت بھی ممکن ہونی چاہیے۔
یہ مطالبہ سیاسی نہیں بلکہ بنیادی عوامی ضرورت سے جڑا ہوا ہے۔
کسانوں کی مشکلات
میرا اور لدھڑ کے گردونواح کے کئی افراد زراعت سے وابستہ ہیں۔
زرعی اجناس، کھاد، بیج اور دیگر سامان کی نقل و حمل کے لیے سڑک کا بہتر ہونا ضروری ہے۔
خراب سڑکوں کی وجہ سے:
* ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں
* فصلوں کی بروقت ترسیل متاثر ہوتی ہے
* گاڑیوں کی مرمت پر اضافی خرچ آتا ہے
نتیجتاً کسانوں کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
طلبہ اور ملازمین بھی متاثر
روزانہ سکول، کالج اور یونیورسٹی جانے والے طلبہ بھی اس صورتحال سے متاثر ہوتے ہیں۔
اسی طرح سرکاری و نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو بھی خراب سڑک کی وجہ سے اضافی وقت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سڑک صرف کنکریٹ اور تارکول کا نام نہیں بلکہ یہ عوامی زندگی کی شہ رگ ہوتی ہے۔
وفاقی وزیر اور ضلعی انتظامیہ کی توجہ درکار
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر بلال اظہر کیانی اور ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن کو اس مسئلے کا نوٹس لینا چاہیے۔
جہلم کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی نگرانی کی جا رہی ہے، لیکن میرا تا لدھڑ روڈ کا مسئلہ اب بھی جوں کا توں ہے۔
عوام کی خواہش ہے کہ متعلقہ حکام خود علاقے کا دورہ کریں اور زمینی حقائق کا جائزہ لیں۔
کئی مرتبہ فائلوں اور رپورٹس میں صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے جبکہ حقیقت میں عوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
ترقی کا معیار صرف نئے منصوبے نہیں
حکومتوں کی کارکردگی کا اندازہ صرف نئے منصوبوں سے نہیں لگایا جاتا بلکہ پہلے سے موجود منصوبوں کی تکمیل اور دیکھ بھال بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔
یہ مضمون پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں:
جہلم پنڈ دادن خان سڑک: 6 سالہ تاخیر، عوامی اذیت اور ادھورے وعدے
اگر کوئی سڑک آدھی تعمیر ہو اور پھر چند سال بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی اور نگرانی میں کہاں کمی رہ گئی۔
ترقیاتی منصوبوں کا اصل مقصد عوامی سہولت ہوتا ہے، نہ کہ صرف افتتاحی تقریبات یا اعلانات۔
دیہی علاقوں کو بھی برابر توجہ ملنی چاہیے
اکثر دیکھا گیا ہے کہ شہری علاقوں کو نسبتاً زیادہ ترقیاتی توجہ مل جاتی ہے جبکہ دیہی علاقے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
میرا تا لدھڑ روڈ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔
علاقے کے لوگ یہ نہیں چاہتے کہ انہیں خصوصی رعایت دی جائے، بلکہ وہ صرف وہی سہولت چاہتے ہیں جو ضلع کے دیگر علاقوں کو حاصل ہے۔
عوامی اعتماد کی بحالی ضروری
جب کسی منصوبے کا اعلان ہو اور پھر وہ مکمل نہ ہو سکے تو عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ:
* سڑک کی مکمل تکنیکی جانچ کی جائے
* مرمت کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں
* نامکمل حصے کو مکمل کیا جائے
* کام کے معیار کو یقینی بنایا جائے
یہ اقدامات نہ صرف عوامی مسائل حل کریں گے بلکہ حکومتی اداروں پر اعتماد بھی بڑھائیں گے۔
آخری بات
میرا تا لدھڑ روڈ محض ایک سڑک کا مسئلہ نہیں بلکہ عوامی سہولت، دیہی ترقی اور انتظامی ترجیحات کا معاملہ ہے۔
جہلم کے گردونواح میں جاری ترقیاتی منصوبے خوش آئند ہیں، لیکن ترقی کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک ایسے علاقوں کے مسائل بھی حل نہ کیے جائیں جو برسوں سے بنیادی سہولتوں کے منتظر ہیں۔
تحصیل دینہ کے عوام آج بھی امید رکھتے ہیں کہ وفاقی وزیر بلال کیانی، ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن اور متعلقہ ادارے اس مسئلے پر توجہ دیں گے اور میرا تا لدھڑ روڈ کو مکمل اور قابلِ سفر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔
کیونکہ ترقی کا اصل مطلب صرف نئی سڑکیں بنانا نہیں، بلکہ ادھورے وعدوں کو مکمل کرنا بھی ہوتا ہے۔
نوید احمد، ایڈیٹر انچیف جہلم لائیو، ایک تجربہ کار صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ متنوع موضوعات پرمعیاری تحریریں پیش کرتے ہیں۔ دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور ڈیجیٹل صحافت میں ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے ہیں،جہلم لائیو کا تمام مواد ان کی ادارت میں شائع کیا جاتا ہے،زیر نظر مضمون بھی ان کا تحریر کردہ ہے۔