جہلم چیمبر الیکشن 2026: بزنس الائنس اور یونائیٹڈ الائنس آمنے سامنے
جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری2026الیکشن
جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 2026 کے انتخابات اس مرتبہ خاصی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ چیمبر کے انتخابات میں اس دفعہ دو بڑے گروپ ایک دوسرے کے مقابلے میں سامنے آئے ہیں، جن میں بزنس الائنس گروپ اور یونائیٹڈ الائنس گروپ شامل ہیں۔ دونوں گروپوں کی جانب سے اپنی اپنی ٹیمیں میدان میں اتاری گئی ہیں اور انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ جہلم کی کاروباری برادری کی نظریں بھی اس مقابلے پر مرکوز ہو گئی ہیں۔
جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری شہر کے تاجروں، صنعت کاروں اور کاروباری افراد کا اہم پلیٹ فارم ہے۔ چیمبر کے ذریعے کاروباری برادری اپنے مسائل متعلقہ حکام تک پہنچاتی ہے اور شہر میں تجارت، صنعت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مختلف معاملات پر آواز اٹھاتی ہے۔ اسی وجہ سے چیمبر کے انتخابات صرف عہدیداروں کے انتخاب تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے نتائج کو جہلم کی کاروباری برادری کے مستقبل کے حوالے سے بھی دیکھا جاتا ہے۔
یہ مضمون پڑھنے کے لئے نیے لنک پر کلک کریں:
جہلم چیمبر آف کامرس: ممبرشپ، کاروباری نمائندگی اور شفافیت پر سوالات
اس مرتبہ انتخابات میں دو متحارب گروپوں کی تشکیل کے بعد مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔ بزنس الائنس گروپ نے بھی اپنی انتخابی ٹیم کو منظم انداز میں میدان میں اتارا ہے جبکہ یونائیٹڈ الائنس گروپ بھی اپنے امیدواروں کے ساتھ انتخابی میدان میں موجود ہے۔ دونوں طرف سے اپنی اپنی ترجیحات اور امیدواروں کے ذریعے کاروباری برادری کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بزنس الائنس گروپ کی قیادت
بزنس الائنس گروپ کے سرپرست ملک اقبال اعوان ہیں، جنہیں گروپ کی سرگرمیوں میں اہم حیثیت حاصل ہے۔ گروپ کے دیگر اہم رہنماؤں میں میجر آصف، اظہر اقبال ڈار، ڈاکٹر فضلی، چوہدری راشد منہاس، شیخ شکیل، شیخ ندیم اصغر، حاجی ندیم خان، عبدالرشید بٹ، عامر سلیم میر، شاہین ڈار، شمشاد ڈار، اسحاق ڈار، مظہر اکرام، عمر مشتاق برگٹ، ذیشان جرال اور دیگر شامل ہیں۔

گروپ کی جانب سے کارپوریٹ کلاس اور ایسوسی ایٹ کلاس میں کم و بیش 14 امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا گیا ہے۔ امیدواروں کی یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بزنس الائنس گروپ نے چیمبر کے مختلف حلقوں میں اپنی نمائندگی قائم رکھنے اور انتخابی مقابلے میں مضبوط پوزیشن حاصل کرنے کے لیے ایک مکمل ٹیم کے ساتھ میدان میں آنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیمبر کے انتخابات میں کارپوریٹ اور ایسوسی ایٹ کلاس کے امیدواروں کی اپنی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ کاروباری برادری کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں اور کامیاب امیدوار بعد میں چیمبر کے معاملات میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے امیدواروں کے لیے نہ صرف ذاتی تعلقات بلکہ کاروباری برادری کے مسائل سے واقفیت اور ان کے حل کے لیے قابل عمل سوچ بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔
عبدالغفور بٹ بھی انتخابی میدان میں

بزنس الائنس گروپ کی جانب سے ایسوسی ایٹ کلاس میں معروف صحافی اور جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے متحرک رکن عبدالغفور بٹ بھی دوسری مرتبہ انتخابی میدان میں ہیں۔ عبدالغفور بٹ 2012 سے جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رکن چلے آ رہے ہیں اور چیمبر کی سرگرمیوں سے طویل عرصے سے وابستہ ہیں۔
صحافت سے وابستگی کے باعث عبدالغفور بٹ جہلم کے مقامی اور کاروباری معاملات پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ چیمبر کی رکنیت کے دوران انہیں کاروباری برادری کے ساتھ رابطے اور مختلف مسائل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ دوسری مرتبہ ایسوسی ایٹ کلاس کا الیکشن لڑنے کی وجہ سے اس مرتبہ ان کی انتخابی مہم بھی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
عبدالغفور بٹ کا کہنا ہے کہ جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری صرف ایک کاروباری تنظیم نہیں بلکہ شہر کی بزنس کمیونٹی کی نمائندہ تنظیم ہے۔ ان کے مطابق چیمبر نے جہلم کے کاروباری افراد کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ اپنے مسائل اور تجاویز سامنے لا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جہلم چیمبر اب جہلم کی شناخت کا ایک حصہ بن چکا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں موجود پاکستانی کاروباری افراد بھی جہلم کے کاروباری حلقوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ بیرون ملک مقیم جہلم کے لوگوں کی جانب سے کاروبار، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں روابط قائم ہیں، اس لیے مقامی کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔
کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا عزم
عبدالغفور بٹ نے جہلم لائیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں اس مرتبہ کامیابی حاصل ہوئی تو وہ جہلم میں کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں کسی بھی شہر کی ترقی صرف روایتی کاروبار تک محدود نہیں رہ سکتی۔ کاروباری ماحول میں تبدیلی آ رہی ہے، نئی ٹیکنالوجی سامنے آ رہی ہے اور نوجوان نسل کاروبار کے نئے طریقوں کی طرف جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں جہلم کی کاروباری برادری کو بھی نئے شعبوں کی طرف توجہ دینا ہوگی۔
ان کے مطابق جہلم میں کاروبار کے فروغ کے لیے مقامی صنعت، تجارت، آن لائن کاروبار، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ کاروباری روابط بڑھانے پر توجہ دی جا سکتی ہے۔ ان شعبوں میں بہتر رابطہ اور منصوبہ بندی کے ذریعے شہر کے نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے راستے پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
یہ مضمون پڑھنے کے لئے نیے لنک پر کلک کریں:
کیا شاندار چوک سے تحصیل روڈ کو پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص کرنا چاہیے؟ جانیں فوائد اور نقصانات
جہلم میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کاروبار شروع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن انہیں مناسب رہنمائی، مارکیٹ تک رسائی، سرمایہ کاری اور کاروباری رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ چیمبر اس حوالے سے ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر مقامی کاروباری افراد کو ایک ہی پلیٹ فارم پر معلومات، رابطے اور مواقع میسر ہوں تو اس سے شہر کی مجموعی کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
نوجوان کاروباری افراد کے لیے مواقع
جہلم کی نئی نسل میں کاروبار کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ بہت سے نوجوان روایتی ملازمت کے بجائے اپنا کاروبار شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ کچھ نوجوان آن لائن کاروبار، فری لانسنگ، ای کامرس اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں جبکہ کئی نوجوان مقامی مارکیٹ میں نئے کاروباری آئیڈیاز کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔
چیمبر آف کامرس اس طبقے کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کے بنیادی اصول، مارکیٹ کی ضروریات، ٹیکس، رجسٹریشن، برانڈنگ، آن لائن مارکیٹنگ اور مالی معاملات کے بارے میں رہنمائی دی جائے تو بہت سے نئے کاروبار سامنے آ سکتے ہیں۔
عبدالغفور بٹ کے انتخابی مؤقف میں بھی کاروباری مواقع پیدا کرنے کا پہلو خاص طور پر نمایاں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کامیابی کی صورت میں اپنی صلاحیتوں کو جہلم کی کاروباری برادری کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ چیمبر کے انتخابات میں امیدواروں سے صرف کامیابی حاصل کرنے کی توقع نہیں کی جاتی بلکہ کاروباری برادری یہ بھی دیکھتی ہے کہ کامیاب ہونے کے بعد منتخب نمائندگان کس انداز میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
بیرون ملک مقیم جہلم کے کاروباری افراد
جہلم کے بہت سے خاندانوں کے افراد دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔ برطانیہ، یورپ، خلیجی ممالک، امریکہ اور دیگر خطوں میں رہنے والے پاکستانیوں کے جہلم کے ساتھ مضبوط خاندانی اور کاروباری روابط موجود ہیں۔
اوورسیز پاکستانی جہلم میں جائیداد، تعمیرات، تجارت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اگر چیمبر مقامی کاروباری افراد اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے درمیان ایک منظم رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو تو اس سے شہر میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس حوالے سے کاروباری وفود، سرمایہ کاری کانفرنسیں، کاروباری ملاقاتیں اور مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس طرح جہلم کی مارکیٹ کو صرف مقامی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے بیرون ملک پاکستانیوں کے کاروباری نیٹ ورک سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔
الیکشن میں اصل امتحان ووٹرز کا فیصلہ
جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 2026 کے انتخابات میں دونوں گروپوں کے امیدواروں کے لیے اصل امتحان ووٹرز کا فیصلہ ہوگا۔ انتخابی مہم کے دوران امیدوار اپنے اپنے منشور، رابطوں اور سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر کاروباری برادری کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
بزنس الائنس گروپ کی جانب سے تقریباً 14 امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے بعد گروپ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے تمام امیدواروں کے درمیان مؤثر رابطہ برقرار رکھے اور انتخابی مہم کو ایک واضح سمت دے۔ دوسری جانب یونائیٹڈ الائنس گروپ بھی اپنے امیدواروں کے ذریعے ووٹرز تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
کاروباری برادری کے ووٹرز کے لیے بھی یہ انتخاب اہم ہے کیونکہ وہ ایسے نمائندوں کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں جو چیمبر کے پلیٹ فارم پر ان کے مسائل کو مؤثر انداز میں سامنے رکھ سکیں۔ بجلی، گیس، ٹیکس، مارکیٹ کے مسائل، کاروباری سہولتوں، سڑکوں، انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور سرکاری اداروں سے متعلق معاملات کاروباری افراد کے لیے ہمیشہ اہم رہے ہیں۔
جہلم کی کاروباری شناخت کو آگے بڑھانے کی ضرورت
جہلم ایک تاریخی شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فعال کاروباری مرکز بھی ہے۔ شہر میں مختلف نوعیت کے کاروبار موجود ہیں اور ضلع کے مختلف علاقوں سے لوگ تجارت کے لیے جہلم کی مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس کاروباری سرگرمی کو مزید منظم اور مضبوط بنانے کے لیے چیمبر کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔
کاروباری برادری کی نمائندہ تنظیم کے طور پر چیمبر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ حکومت اور کاروباری طبقے کے درمیان رابطے کو بہتر بنائے، کاروباری مشکلات کی نشاندہی کرے اور ان کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے بات کرے۔
اس کے ساتھ ساتھ نئے سرمایہ کاروں کو جہلم کی طرف متوجہ کرنا بھی ایک اہم کام ہو سکتا ہے۔ اگر شہر میں سرمایہ کاری کے لیے دستیاب شعبوں، مقامی مارکیٹ، صنعتی امکانات اور کاروباری سہولتوں کے بارے میں مناسب معلومات فراہم کی جائیں تو بیرون شہر اور بیرون ملک موجود سرمایہ کار بھی جہلم میں کاروباری منصوبوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔
انتخابی مقابلہ اور آئندہ کا کردار
2026 کے انتخابات میں بزنس الائنس گروپ اور یونائیٹڈ الائنس گروپ کے درمیان مقابلہ جہلم چیمبر کی آئندہ سمت کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں گروپوں کے امیدواروں کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ووٹرز کریں گے، تاہم کامیاب ہونے والے امیدواروں کے سامنے اصل ذمہ داری انتخابات کے بعد شروع ہوگی۔
چیمبر میں منتخب ہونے والے نمائندوں کو کاروباری برادری کے مختلف طبقات کے ساتھ رابطہ رکھنا ہوگا۔ بڑے کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے تاجروں، نئے کاروباری افراد اور نوجوانوں کی آواز بھی چیمبر کے پلیٹ فارم پر پہنچانا ضروری ہوگا۔
عبدالغفور بٹ جیسے امیدوار، جو طویل عرصے سے چیمبر کے رکن ہیں اور صحافت سے بھی وابستہ ہیں، ان کے لیے بھی یہ انتخاب ایک نیا موقع ہے کہ وہ اپنی انتخابی کامیابی کی صورت میں کاروباری برادری کے لیے اپنے وژن کو عملی شکل دیں۔
انہوں نے جس عزم کا اظہار کیا ہے، اس میں جہلم میں کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنا بنیادی نکتہ ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد کامیاب امیدوار اس مقصد کو کس حد تک آگے لے جاتے ہیں۔
جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 2026 کے انتخابات میں مقابلہ اگرچہ دو گروپوں کے درمیان ہے، لیکن اس انتخاب کا تعلق صرف دو گروپوں کی کامیابی یا شکست سے نہیں۔ اس کا تعلق جہلم کی کاروباری برادری کے مستقبل، نئے کاروباری مواقع، سرمایہ کاری، روزگار اور شہر کی معاشی سرگرمیوں سے بھی ہے۔
اب نظریں انتخابی میدان پر ہیں اور آنے والے دنوں میں دونوں گروپوں کی سرگرمیاں مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔ بزنس الائنس گروپ کی جانب سے ملک اقبال اعوان کی سرپرستی میں میدان میں آنے والی ٹیم اور یونائیٹڈ الائنس گروپ کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ جہلم کی کاروباری برادری کے لیے خاصی دلچسپی کا باعث بن چکا ہے۔
فیصلہ بہرحال ووٹرز کے ہاتھ میں ہے۔ انتخابات کے بعد کامیاب ہونے والے نمائندوں سے سب سے بڑی توقع یہی ہوگی کہ وہ گروپ بندی سے آگے بڑھ کر جہلم کی پوری کاروباری برادری کی نمائندگی کریں اور شہر میں کاروبار کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔