جہلم چیمبر آف کامرس: انتخابی اختلافات اور کاروباری برادری کا کردار

جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات 2026 اور بزنس الائنس و یونائیٹڈ الائنس کے درمیان اختلافات پر تجزیاتی مضمون

جہلم چیمبر آف کامرس جہلم کے کاروباری طبقے کا نمائندہ ادارہ ہے جو 1993 سے قائم ہے۔ اس کے انتظامی عہدے دار ہر دو سال بعد منتخب ہوتے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں بزنس الائنس گروپ نے یونائیٹڈ الائنس کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی اور اس کے ممبران صدر، سینئر نائب صدر اور نائب صدر کے عہدوں پر فائز ہوئے۔

اس انتخاب کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سابق صدر زاہد بٹ صاحب کی سربراہی میں قائم دھڑا ان انتخابی نتائج کو خوشدلی سے تسلیم کرتے ہوئے جمہوری روایات کے مطابق ایک اپوزیشن کا صحت مندانہ کردار ادا کرتا اور چیمبر کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنا بہتر آوٹ پٹ دیتا مگر اس دھڑے کی جانب سے مخالفت برائے مخالفت اور فرد واحد سے جڑی عصبیت اور ضد پر مبنی روش اپنا لی گئی۔ اوربجائے اس کے کہ وہ چیمبر کی حلف برداری میں شامل ہوتے اور وفاقی وزیر مملکت کی موجودگی کا فائدہ اٹھا کر جہلم کے تاجروں کے مطالبات ارباب اختیار تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتے، انہوں نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے پر اکتفا کیا اور الگ تقریب حلف برداری کا اعلان کر کے چیمبر آف کامرس کے ادارے کو تماشا بنانے کی دانستہ کوشش کی۔ جس سے جہم چیمبر کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

یہ پوسٹ پڑھنے کے لئے نیچے لنک پر کلک کریں:

جہلم چیمبر کی دوسری حلف برداری تقریب نان آفیشل قرار

واقعہ یہ ہے کہ زاہد بٹ صاحب اور ان سے جڑے لوگ اگر اب بھی اپنی روش کو بدلنے پر تیار نہیں اور اپنی منفی سوچ پر ڈٹے رہنا چاہتے ہیں تو انہیں جان لینا چاہیے کہ اس طرح وہ ووٹرز کی نظر میں اپنی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں ملا کر اپنے مستقبل کے امکانات کو بھی ختم کر لیں گے۔ بلکہ اس سے جہلم چیمبر آف کامرس ایند اندسٹری کی جگ ہنسائی ہو گی۔

اس لیے اس گروپ کے جملہ ممبران اور عیدیداران کو بھی اب سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے ووٹرز کی بہتر نمائندگی کے لیے چیمبر کی سرگرمیوں میں اپنا مثبت کردار ادا کریں نہ کہ کسی فرد واحد کی ذاتی غلامی قبول کر کے اپنے ووٹرز کے دئیے گئے مینڈیٹ سے روگردانی کریں۔بس بزنس مین سپرٹ کا مظاہرہ کریں۔

نوٹ: زیر نظر مضمون صاحب تحریر کی ذاتی رائے ہے،ادارہ جہلم لائیو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں.