شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد: گارڈز کے رویے پر سوالات

اسلام آباد کا شمار پاکستان کے ان شہروں میں ہوتا ہے جہاں جدید طبی سہولتوں سے آراستہ بڑے نجی ہسپتال قائم ہیں۔ ان ہسپتالوں میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد بھی ایک نمایاں نام ہے، جہاں لوگ بہتر علاج، جدید طبی آلات اور ماہر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ جب کسی انسان کو بیماری لاحق ہوتی ہے تو وہ اپنی صحت کی بحالی کے لیے بہترین ممکنہ سہولتوں کی تلاش میں نکلتا ہے۔ مریض کے ساتھ اس کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب بھی امیدیں وابستہ کرکے ہسپتال پہنچتے ہیں کہ ان کے پیارے کو مناسب علاج ملے گا اور وہ جلد صحت یاب ہو کر گھر واپس آئے گا۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں علاج معالجے کی سہولتیں مجموعی طور پر اچھی محسوس ہوئیں۔ تاہم، اس دورے کے دوران ایک ایسا پہلو سامنے آیا جس نے طبی سہولتوں کے ساتھ ساتھ مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کیے۔ یہ پہلو ہسپتال کے سکیورٹی گارڈز کا رویہ اور مریضوں کے ساتھ آنے والے افراد کو درپیش مشکلات تھیں۔
علاج کے لیے آنے والے لوگ پہلے ہی پریشان ہوتے ہیں
کسی بھی ہسپتال کا ماحول عام جگہوں سے مختلف ہوتا ہے۔ یہاں آنے والا ہر شخص کسی نہ کسی پریشانی، خوف یا ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔ کوئی اپنے والدین کے علاج کے لیے آیا ہوتا ہے، کوئی اپنے بچے کی صحت کے حوالے سے فکرمند ہوتا ہے، تو کوئی اپنے شریک حیات یا کسی قریبی عزیز کی بیماری کے باعث پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔
ایسے حالات میں ہسپتال کے عملے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی، تحمل اور احترام کا مظاہرہ کرے۔ خصوصاً سکیورٹی پر مامور افراد کا رویہ ایسا ہونا چاہیے جو نظم و ضبط برقرار رکھنے کے ساتھ لوگوں کی پریشانیوں کو بھی سمجھے۔
لیکن شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے دورے کے دوران جو تجربہ ہوا، اس میں گارڈز کا رویہ انتہائی نامناسب اور بدتمیز محسوس ہوا۔ مریضوں کے ساتھ آنے والے افراد کو بار بار روکنا، ان کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرنا اور تیمارداری کے معاملے میں غیر ضروری مشکلات پیدا کرنا ایسی باتیں ہیں جن پر ہسپتال انتظامیہ کو توجہ دینی چاہیے۔
مریض کی تیمارداری اور لواحقین کی مشکلات
ہمارے معاشرے میں مریض کی تیمارداری کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ بیماری کے دوران کسی اپنے کا ساتھ، اس کی خیریت دریافت کرنا اور اسے حوصلہ دینا انسانی ہمدردی اور خاندانی وابستگی کا حصہ ہے۔ اگرچہ ہسپتالوں میں مریضوں کے آرام، انفیکشن سے بچاؤ اور طبی عملے کے کام کو بہتر بنانے کے لیے ملاقاتوں پر پابندیاں ضروری ہو سکتی ہیں، لیکن ان پابندیوں کا نفاذ واضح، منصفانہ اور باوقار انداز میں ہونا چاہیے۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں پیش آنے والے تجربے کے مطابق، مریض کے ساتھ آنے والے ایک سے زیادہ افراد کو تیمارداری کے لیے اندر جانے کی اجازت دینے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ بعض اوقات ایک شخص کو ہی اندر جانے دیا جاتا ہے، جبکہ دوسرے قریبی عزیز باہر انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اس صورت حال میں سب سے زیادہ پریشانی ان لوگوں کو ہوتی ہے جو دور دراز علاقوں سے اپنے مریضوں کے ساتھ آئے ہوں اور اپنے عزیز کی خیریت جاننے کے لیے بے چین ہوں۔
اس معاملے میں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ بظاہر بعض مواقع پر دو یا تین افراد کو اندر جانے کی اجازت بھی دے دی جاتی ہے، لیکن اس کے برعکس دوسرے افراد کو روک دیا جاتا ہے۔ اگر کسی وارڈ یا شعبے میں مریضوں کی تعداد، طبی ضرورت یا انتظامی پالیسی کی بنیاد پر افراد کی تعداد مقرر کی گئی ہے تو اس کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے۔
سکیورٹی کے معاملات میں ذاتی صوابدید یا غیر واضح فیصلوں کا تاثر پیدا ہو تو لوگوں کے ذہنوں میں سوالات جنم لیتے ہیں۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں واضح پالیسی بنائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر شخص کے ساتھ یکساں سلوک ہو۔
کیا نجی ہسپتال میں عزت اور احترام کی کوئی اہمیت نہیں؟
شفا انٹرنیشنل ہسپتال ایک نجی طبی ادارہ ہے، جہاں لوگ علاج معالجے کے لیے بھاری اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ بہت سے خاندان اپنے پیاروں کی صحت کے لیے لاکھوں روپے تک خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کوئی اپنی جمع پونجی استعمال کرتا ہے، کوئی قرض لیتا ہے اور کوئی اپنی ضروریات محدود کرکے علاج کے اخراجات پورے کرتا ہے۔
ایسی صورت حال میں لوگوں کی توقع صرف یہ نہیں ہوتی کہ انہیں جدید طبی سہولتیں اور ماہر ڈاکٹروں کی خدمات ملیں، بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کیا جائے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ علاج کی فیس ادا کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہسپتال کے تمام قواعد ختم ہو جاتے ہیں یا ہر شخص کو کسی بھی وقت ہر وارڈ میں جانے کی اجازت ملنی چاہیے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت، رازداری اور علاج کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ تاہم، ان اصولوں کا نفاذ کرتے ہوئے مریضوں اور ان کے لواحقین کی عزت نفس کو مجروح کرنا بھی کسی صورت مناسب نہیں۔
ایک نجی ہسپتال کی کامیابی کا معیار صرف اس کی عمارت، جدید مشینری، ڈاکٹروں کی قابلیت اور طبی سہولتیں نہیں ہوتیں۔ اس کا اصل معیار یہ بھی ہے کہ وہاں آنے والے لوگوں کو کس حد تک عزت، سہولت اور ذہنی سکون فراہم کیا جاتا ہے۔
ہسپتال یا چھاؤنی؟ انتظامی رویے پر سوال
شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں سکیورٹی گارڈز کے رویے کے حوالے سے سامنے آنے والا تجربہ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا مریضوں کی حفاظت کے نام پر ایسا سخت ماحول پیدا کرنا ضروری ہے جہاں مریض کے قریبی عزیز بھی خود کو بے بس اور پریشان محسوس کریں؟
سکیورٹی کا مقصد تحفظ فراہم کرنا ہے، خوف پیدا کرنا نہیں۔ گارڈز کی ذمہ داری ہسپتال کے قواعد پر عمل درآمد یقینی بنانا، غیر متعلقہ افراد کی آمدورفت کو کنٹرول کرنا اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچاؤ کے لیے مناسب اقدامات کرنا ہے۔ لیکن اس ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگوں سے بدتمیزی کریں یا انہیں اس انداز میں مخاطب کریں جس سے ان کی عزت نفس متاثر ہو۔
بعض اوقات ہسپتالوں میں سکیورٹی عملے کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رش، مریضوں کی تعداد، ہنگامی صورت حال اور انتظامی پابندیوں کے باعث ان پر دباؤ بھی ہوتا ہے۔ لیکن پیشہ ورانہ تربیت کا تقاضا یہی ہے کہ دباؤ کے باوجود تحمل اور شائستگی برقرار رکھی جائے۔
اگر کسی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تو اسے مناسب الفاظ میں وجہ بتائی جا سکتی ہے۔ اگر صرف ایک تیماردار کی اجازت ہے تو یہ اصول پہلے سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی مریض کی حالت کے باعث اضافی فرد کی ضرورت ہے تو اس کے لیے متعلقہ شعبے سے اجازت لینے کا طریقہ بھی موجود ہونا چاہیے۔
یہ تمام اقدامات سختی اور بدتمیزی کے بغیر بھی کیے جا سکتے ہیں۔
انتظامیہ کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے
اس صورت حال میں اصل ذمہ داری ہسپتال کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی عملے کے رویے، تربیت اور کارکردگی کا جائزہ لے۔ محض قواعد بنانا کافی نہیں، ان قواعد پر عمل درآمد کا طریقہ بھی ایسا ہونا چاہیے جس میں انسانی احترام کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔
انتظامیہ کو چاہیے کہ مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے ملاقات اور تیمارداری کی پالیسی نمایاں مقامات پر آویزاں کرے۔ ہر وارڈ کے لیے اجازت یافتہ افراد کی تعداد واضح کی جائے اور اس میں تبدیلی کی صورت میں اس کی وجہ بھی بتائی جائے۔
اسی طرح، سکیورٹی گارڈز کو باقاعدہ تربیت دی جائے کہ وہ پریشان حال افراد سے کس طرح بات کریں، کسی کی درخواست مسترد کرتے وقت کون سا طریقہ اختیار کریں اور شکایت کی صورت میں معاملہ کس افسر تک پہنچائیں۔
ہسپتال میں ایک مؤثر شکایتی نظام بھی ہونا چاہیے، جہاں کوئی شخص بدتمیزی، غیر منصفانہ پابندی یا نامناسب رویے کے بارے میں اپنی شکایت درج کرا سکے۔ شکایت کرنے والے کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ اس کی بات سنی جائے گی اور معاملے کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے گا۔
مریضوں کے ساتھ آنے والے افراد بھی انسان ہیں
یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ مریض کے ساتھ آنے والا ہر شخص محض ایک وزیٹر نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ مریض کا واحد سہارا ہوتا ہے۔ کسی مریض کو ڈاکٹر کی بات سمجھنے، ادویات کے بارے میں معلومات لینے، ٹیسٹ کروانے یا کسی ہنگامی فیصلے میں مدد کے لیے اپنے قریبی عزیز کی ضرورت ہوتی ہے۔
خصوصاً بزرگوں، بچوں اور شدید بیمار افراد کے لیے تیماردار کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ہسپتال کو مریض کی طبی ضرورت اور سکیورٹی پالیسی کے درمیان مناسب توازن قائم کرنا چاہیے۔
یہ پوسٹ پڑھنے کے لئے نیچے لنک پر کلک کریں:
راجہ پورس: جہلم کی تاریخ کا وہ عظیم اور خوددار حکمران جس نے سکندرِ اعظم کو حیران کر دیا
یہ بھی ضروری ہے کہ عام تیمارداری، طبی ضرورت اور ہنگامی صورت حال کو ایک ہی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ ہر مریض کی حالت مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے مناسب قواعد کے اندر رہتے ہوئے ضروری سہولت فراہم کرنے کا انتظام ہونا چاہیے۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے لیے ایک مثبت پیغام
شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں علاج معالجے کی سہولتوں کے اچھے پہلوؤں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری ہے کہ انتظامی رویے میں بہتری کی گنجائش ہر ادارے میں موجود ہوتی ہے۔ کسی ادارے پر تنقید کا مقصد اسے بدنام کرنا نہیں، بلکہ اس کی کمزوریوں کی نشان دہی کرکے بہتری کی طرف توجہ دلانا ہونا چاہیے۔
میرا مقصد بھی یہی ہے کہ ہسپتال انتظامیہ اس تجربے کو ایک شکایت کے ساتھ ساتھ اصلاح کا موقع سمجھے۔ اگر سکیورٹی گارڈز کا رویہ بہتر بنایا جائے، تیمارداری کے اصول واضح کیے جائیں اور مریضوں کے لواحقین کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ یقینی بنایا جائے تو اس سے ہسپتال کی ساکھ اور عوامی اعتماد دونوں میں بہتری آ سکتی ہے۔
لوگ اپنے پیاروں کی صحت کے لیے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ انہیں پہلے ہی بیماری، اخراجات اور غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر انہیں ہسپتال کے دروازے پر بھی تضحیک، سخت لہجے یا غیر ضروری پریشانی کا سامنا کرنا پڑے تو یہ ان کے لیے مزید ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال جیسے بڑے طبی ادارے سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ علاج کے معیار کے ساتھ انسانی رویوں کے معیار کو بھی بلند کرے۔ سکیورٹی ضروری ہے، نظم و ضبط بھی ضروری ہے، لیکن ان دونوں کے ساتھ شائستگی اور ہمدردی بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔
آخر میں سوال صرف اتنا ہے: کیا ایک مریض کے علاج کے لیے آنے والے خاندان کو مناسب طبی سہولتوں کے ساتھ عزت اور احترام بھی نہیں ملنا چاہیے؟
یقیناً ملنا چاہیے۔ کیونکہ ہسپتال صرف بیماریوں کا علاج کرنے کی جگہ نہیں، بلکہ انسانوں کی تکلیف کم کرنے کا مرکز بھی ہوتے ہیں۔ اور جہاں انسان کی تکلیف کم کرنے کا کام کیا جاتا ہو، وہاں انسانی عزت نفس کا خیال رکھنا بھی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
