جنگِ آزادی 1857ء: معرکۂ جہلم کی مکمل تاریخی داستان (قسط اول) | مورخِ جہلم انجم سلطان شہباز

معرکۂ جہلم 1857ء کی پہلی قسط، مورخِ جہلم انجم سلطان شہباز کی تاریخی تحقیق پر مبنی فیچر امیج۔

میں جب برصغیر کے مختلف علاقوں میں انگریز حکومت کے خلاف بغاوت شروع ہوئی تو اس کی گونج جہلم تک بھی پہنچی۔ اس وقت ہندوستان کے کئی شہروں میں سپاہیوں اور مقامی آبادی نے انگریز اقتدار کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے تھے۔ جہلم بھی ان اہم مقامات میں شامل تھا جہاں آزادی کی اس تحریک نے ایک فیصلہ کن شکل اختیار کی۔

اس دور میں جہلم میں دو فوجی پلٹنیں تعینات تھیں۔ ایک 14 نمبر Native Infantry اور دوسری 39 نمبر پلٹن۔

ابتدا میں 39 نمبر پلٹن کو ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا حکم دیا گیا۔ یہ پلٹن اپنا اسلحہ خانے (Magazine) ساتھ لیے بغیر روانہ ہو گئی۔ اسی دوران جہلم میں موجود توپخانے کو لاہور منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جہاں پہنچنے کے بعد اس کے جوانوں کو غیر مسلح کر دیا گیا۔

ان اقدامات کے بعد جہلم میں صرف 14 نمبر Native Infantry باقی رہ گئی، جس میں زیادہ تر مسلمان سپاہی شامل تھے۔

 انگریزوں کا منصوبہ

کچھ ہی عرصے بعد اس پلٹن کی دو کمپنیوں کو راولپنڈی بھیجنے کا حکم ملا۔ دوسری طرف راولپنڈی سے انگریز فوجی دستے اور سکھ سپاہی جہلم پہنچ چکے تھے۔

انگریز حکام کا مقصد واضح تھا۔ وہ 14 نمبر پلٹن کو بھی غیر مسلح کرنا چاہتے تھے تاکہ بغاوت کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔

لیکن حالات ان کی توقعات کے مطابق نہ رہے۔

 سپاہیوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا

جب انگریز فوج اور ان کے ساتھ موجود سکھ دستوں نے جہلم کے سپاہیوں سے ہتھیار جمع کرانے کا مطالبہ کیا تو صورتِ حال اچانک بدل گئی۔

سپاہیوں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مزاحمت کا فیصلہ کیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے فضا گولیوں کی آواز سے گونج اٹھی اور دونوں طرف سے شدید فائرنگ شروع ہو گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جہلم میں جنگِ آزادی نے باقاعدہ عملی شکل اختیار کی۔

ابتدائی مقابلے میں مجاہدین نے بھرپور مزاحمت کی اور انگریز فوج کو سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

 موضع لوٹہ میں مورچہ بندی

جب انگریزوں نے راولپنڈی سے مزید کمک اور توپخانہ طلب کیا تو مجاہدین نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی۔

وہ کینٹ کے قریب واقع موضع لوٹہ میں جا کر مورچہ بند ہو گئے۔

یہ گاؤں جلد ہی ایک مضبوط دفاعی مرکز بن گیا۔

انگریز فوج نے توپوں کے ساتھ گاؤں پر حملہ کیا، لیکن مجاہدین نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حملے کا بھرپور جواب دیا۔

شدید لڑائی کے دوران انگریزوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ روایت کے مطابق ان کے کمانڈر سمیت متعدد انگریز اور سکھ سپاہی مارے گئے، جبکہ باقی فوج کو وقتی طور پر پسپا ہونا پڑا۔

اسی جھڑپ میں مجاہدین نے دشمن کی ایک توپ پر بھی قبضہ کر لیا۔

 دریائے جہلم کی طرف پیش قدمی

اگرچہ موضع لوٹہ میں مجاہدین نے سخت مزاحمت کی، لیکن انہیں اندازہ تھا کہ بھاری توپخانے کے سامنے زیادہ دیر تک ایک ہی مقام پر ٹھہرنا ممکن نہیں۔

اسی لیے انہوں نے وہاں سے نکل کر دریائے جہلم کا رخ کیا۔

بیلی پاہرواں اور بگا سعیلہ کے درمیان دریا میں ایک جزیرہ تھا، جہاں گھنے درخت موجود تھے۔ مجاہدین نے اسی مقام کو اپنی اگلی پناہ گاہ بنایا۔

اس وقت تک ہونے والی لڑائی میں تقریباً 150 مجاہدین شہید ہو چکے تھے۔

اس کے باوجود حوصلے بلند تھے۔

راستے میں جہلم اور پوٹھوہار کے مختلف علاقوں سے مزید جنگجو بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے گئے، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد تقریباً 500تک جا پہنچی۔

 مخبری نے جنگ کا رخ بدل دیا

مجاہدین ابھی اپنی نئی پوزیشن مضبوط کر ہی رہے تھے کہ بعض مقامی افراد نے ان کی موجودگی کی اطلاع انگریز حکام کو دے دی۔

یہ اطلاع فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

چند ہی گھنٹوں میں جزیرے کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔

گجرات کے اس وقت کے انگریز حاکم ایلیٹ (Elliot) بھی سکھ اور انگریز فوجیوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے، جبکہ جہلم کی طرف سے بھی فوج نے محاصرہ مکمل کر لیا۔

اب مجاہدین کے لیے نکلنے کا راستہ تقریباً بند ہو چکا تھا۔

 دریائے جہلم کے کنارے آخری مزاحمت

جب محاصرہ مزید سخت ہوا تو بعض نوجوانوں نے گرفتاری کے بجائے دریائے جہلم میں چھلانگ لگا دی۔

دریا کی تیز لہریں کئی جانیں اپنے ساتھ بہا لے گئیں۔

جو مجاہدین کنارے پر موجود رہے، ان پر دونوں طرف سے شدید فائرنگ کی گئی۔

انہوں نے آخری لمحے تک مزاحمت جاری رکھی، لیکن تعداد اور اسلحے کے فرق نے آخرکار ان پر اثر دکھایا۔

بہت سے مجاہدین اسی معرکے میں شہید ہو گئے۔

صرف 40 مجاہدین زندہ گرفتار کیے جا سکے۔

انہیں بعد میں میدانِ قصاباں، جو آج میدانِ پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے، میں پھانسی دے دی گئی۔

مصنف کے مطابق ان شہداء میں مرزا دلدار بیگ، سید کرم علی، تاج دین، ڈاکٹر رسول بخش اور امیر علی کے نام شامل تھے، جبکہ بہت سے دوسرے شہداء کے نام تاریخ میں محفوظ نہ رہ سکے۔

 شہداء کے نام اور تاریخی ریکارڈ

اس جنگ میں مارے جانے والے انگریز فوجیوں کے نام آج بھی جہلم کے قدیم سینٹ جان چرچ میں درج ہیں، جبکہ ان کی تدفین گورا قبرستان میں کی گئی تھی۔

مصنف کے مطابق گرفتار کیے گئے 40 مجاہدین کی ایک فہرست پروفیسر احمد حسین قریشی قلعہ داری کے پاس موجود تھی۔ ایک ملاقات کے دوران انہوں نے یہ فہرست فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا، لیکن بعد میں وہ یہ دستاویز تلاش نہ کر سکے۔

جنگِ آزادی کے دوران ایک بات اکثر تاریخ کی کتابوں میں بیان کی جاتی ہے کہ مختلف علاقوں میں مختلف طبقات نے الگ الگ کردار ادا کیا۔ مصنف کے مطابق اس جنگ میں کئی مقامات پر سکھ اور ہندو دستوں نے انگریز حکومت کا ساتھ دیا، جبکہ جھانسی کی رانی لکشمی بائی اور نانا صاحب (نانا فر نویس کے طور پر بھی معروف) نے انگریز اقتدار کے خلاف مزاحمت کی۔ انگریز حکومت ان کے سیاسی اور ریاستی حقوق محدود کرنا چاہتی تھی، جس کے باعث انہوں نے بھی جنگ کا راستہ اختیار کیا۔

 6 جولائی 1857ء، جب جہلم میں لڑائی شروع ہوئی

6 جولائی 1857ء کی صبح جہلم کی فضا غیر معمولی طور پر کشیدہ تھی۔ انگریز حکام کو اندازہ ہو چکا تھا کہ 14ویں Native Infantry میں بے چینی پھیل چکی ہے، جبکہ سپاہیوں کو یقین تھا کہ انہیں بھی دوسرے مقامات کی طرح غیر مسلح کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔

جونہی باغی سپاہیوں نے پہلی فائرنگ کی، انگریز افسر اور ان کے ساتھ موجود سکھ سپاہی اپنی پوزیشن بدلتے ہوئے یورپی دستوں کی جانب چلے گئے۔

فوری طور پر گھڑ سوار دستوں اور ملتانی رضاکاروں کو حملے کا حکم دیا گیا، لیکن باغی سپاہیوں نے پہلے ہی اپنی جگہیں مضبوط کر لی تھیں۔ کچھ سپاہی برآمدوں میں مورچہ بند تھے، کچھ کوارٹر گارڈ کی چھت پر پہنچ چکے تھے، جبکہ کئی اپنے کمروں سے فائرنگ کر رہے تھے۔

 ابتدائی جھڑپ

یہ پہلا مقابلہ تقریباً دس منٹ جاری رہا، مگر اس مختصر وقت میں بھی حملہ آوروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق تقریباً 240 حملہ آوروں میں سے 9 مارے گئے اور 28 زخمی ہوئے۔

اسی دوران آرٹلری اور انفنٹری کی مزید نفری بھی انگریز فوج کی مدد کے لیے پہنچ گئی۔ اس اضافی قوت کے باوجود انقلابی سپاہیوں نے اپنی مزاحمت جاری رکھی۔

تاہم مسلسل دباؤ بڑھنے پر انہیں 39ویں رجمنٹ کی لائنوں کی طرف پسپا ہونا پڑا۔

 اسلحہ خانے میں آگ

جب سپاہی اپنی نئی پوزیشن پر پہنچے تو انہیں ایک اور مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

رجمنٹ کے اسلحہ خانے میں آگ لگ چکی تھی، جس کی وجہ سے وہاں زیادہ دیر تک ٹھہرنا ممکن نہ رہا۔

صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے گاؤں سعیلہ کی طرف جانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہاں بہتر دفاعی مورچہ قائم کیا جا سکے۔

 سعیلہ کا معرکہ

شام تقریباً پانچ بجے جنگ نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی۔

اس بار توپخانہ گاؤں کے بہت قریب پہنچ چکا تھا، لیکن یہ قربت خود انگریز فوج کے لیے مسئلہ بن گئی۔

گاؤں کے اندر موجود مجاہدین توپ چلانے والے اہلکاروں کو نہایت درست نشانہ بنا رہے تھے، جبکہ انگریزوں کی کئی گولیاں گھروں کی دیواروں سے ٹکرا کر ضائع ہو رہی تھیں۔

لڑائی شدت اختیار کرتی گئی۔

دوسری جانب گھوڑوں اور سپاہیوں کی مسلسل ہلاکت اور اسلحے کی کمی نے انگریز فوج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

 مجاہدین نے توپ پر قبضہ کر لیا

پسپائی کے دوران انگریز فوج اپنی ایک توپ میدان میں چھوڑ گئی۔

یہ موقع دیکھتے ہی مجاہدین گاؤں سے باہر نکلے اور اس توپ پر قبضہ کر لیا۔

یہ جنگ کا ایک اہم لمحہ تھا، کیونکہ محدود وسائل رکھنے والے مجاہدین نے نہ صرف دشمن کو پیچھے دھکیلا بلکہ اس کا اسلحہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔

اندھیرا ہونے لگا تھا، اس لیے برطانوی فوج نے اسی رات دوبارہ حملہ کرنے کے بجائے گاؤں کا محاصرہ برقرار رکھا۔

 اگلی صبح کا منظر

رات گزرنے کے بعد مجاہدین نے سعیلہ خالی کر دیا اور دریائے جہلم کی طرف روانہ ہو گئے۔

جب وہ دریا کے قریب پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ پل اور کشتیاں مقامی زمینداروں کے قبضے میں ہیں، جو انگریز حکومت کے حامی سمجھے جاتے تھے۔

اس صورتِ حال نے مجاہدین کے لیے مشکلات مزید بڑھا دیں۔

انہوں نے نجی کشتیوں کے ذریعے مختلف سمتوں میں نکلنے کی کوشش کی، لیکن اس دوران کئی افراد پکڑے گئے۔

تاریخی حوالوں کے مطابق ان میں سے متعدد کو بعد میں پھانسی دے دی گئی۔

 برطانوی فوج کو ہونے والا نقصان

مصنف کے بیان کے مطابق اس ایک دن کی لڑائی میں 14ویں Native Infantry عملاً ختم ہو گئی، لیکن اس کے باوجود انگریز فوج کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

اس جنگ میں برطانوی حکومت کے 44 افسر اور سپاہی مارے گئے، جبکہ 109 زخمی ہوئے۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جہلم کی یہ لڑائی برصغیر میں ہونے والی بڑی مزاحمتوں میں شمار کی جاتی ہے، جہاں محدود وسائل رکھنے والے مجاہدین نے ایک منظم فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

 7 جولائی 1857ء، جنگ کا ایک اور خونریز دن

6 جولائی کی شدید لڑائی کے بعد بھی معرکہ ختم نہیں ہوا تھا۔ اگلے روز بھی مختلف مقامات پر جھڑپیں جاری رہیں اور دونوں جانب سے مزاحمت کا سلسلہ برقرار رہا۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق 7 جولائی 1857ء کو ایک انگریز فوجی ولیم کونولی (William Connolly) نے جہلم کے مقام پر باغی سپاہیوں کا سامنا کیا۔ لڑائی کے دوران اسے دو گولیاں لگیں، لیکن اس کے باوجود وہ میدان چھوڑ کر پیچھے نہیں ہٹا۔

برطانوی حکومت نے اس کی بہادری کے اعتراف میں اسے Victoria Cross سے نوازا، جو برطانیہ کا ایک بڑا فوجی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

اسی معرکے میں کرنل ولیم سپرنگ کے بیٹے کیپٹن فرانسس سپرنگ بھی مارا گیا۔

آج بھی سینٹ جان چرچ، جہلم میں ایک سنگِ مرمر کی تختی موجود ہے، جس پر اس سمیت 35 انگریز فوجیوں کے نام درج ہیں جو اس جنگ میں ہلاک ہوئے تھے۔

مصنف کے مطابق یہ تختی 1936ء میں نصب کی گئی تاکہ ان فوجیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے، جبکہ ان کی تدفین اسی چرچ کے قبرستان میں کی گئی تھی۔

 معرکۂ جہلم کی تیاری

تاریخی حوالوں کے مطابق اس وقت 14ویں Native Infantry میں بے چینی پہلے ہی پیدا ہو چکی تھی اور انگریز حکام کو خدشہ تھا کہ یہ رجمنٹ بھی دوسرے علاقوں کی طرح بغاوت کر سکتی ہے۔

اسی خدشے کے پیش نظر چیف کمشنر نے راولپنڈی سے 24ویں رجمنٹ کو تین توپوں اور تقریباً 285 سپاہیوں کے ساتھ جہلم روانہ کرنے کا حکم دیا۔

اس فوج کی کمان کرنل ایلس کے پاس تھی۔

جہلم کے ڈپٹی کمشنر کو بھی واضح ہدایات دی گئیں کہ وہ اس کارروائی میں کرنل ایلس کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

 دینہ میں اہم ملاقات

6 جولائی 1857ء کو کرنل ایلس دینہ پہنچا، جہاں جہلم کے ڈپٹی کمشنر نے اس سے ملاقات کی اور علاقے کی صورتِ حال سے آگاہ کیا۔

کرنل ایلس نے اپنی حکمتِ عملی بتاتے ہوئے کہا کہ اس کی فورس دینہ سے روانہ ہو کر آرٹلری کے پریڈ گراؤنڈ تک پہنچے گی، جو 14ویں Native Infantry کی لائنوں سے آگے واقع تھا۔

اس کے بعد پوری فورس باغی سمجھی جانے والی رجمنٹ کے سامنے جا کر کارروائی کرے گی۔

اسی شام تقریباً چھ بجے کرنل ایلس جہلم پہنچا، جہاں اس کی ملاقات کرنل گیرارڈ (Gerrard) سے ہوئی۔

دونوں افسروں نے آنے والے آپریشن پر تفصیلی مشاورت کی۔

 کارروائی سے پہلے کی منصوبہ بندی

فیصلہ کیا گیا کہ خواتین اور بچوں کو احتیاطاً سول لائنز منتقل کر دیا جائے تاکہ اگر لڑائی شروع ہو تو وہ محفوظ رہیں۔

یہ بھی طے پایا کہ پورے آپریشن کی نگرانی ڈپٹی کمشنر کی صوابدید کے مطابق ہوگی۔

کرنل ایلس کی مدد کے لیے مختلف دستے بھی تیار رکھے گئے، جن میں:

* 150 پولیس اہلکار
* 60 شمشیر زن
* 250 گھڑ سوار

شامل تھے۔

یہ تمام تیاریاں رات ہی مکمل کر لی گئیں۔

 6 جولائی کی صبح

اگلی صبح سورج نکلنے کے بعد 24ویں رجمنٹ کے سپاہی کوارٹر گارڈ کی طرف بڑھے۔

سامنے 14ویں Native Infantry کے سپاہی اپنی جگہوں پر موجود تھے۔

جونہی دونوں دستے آمنے سامنے آئے، باغی سپاہیوں نے چند انگریز افسروں پر تین سے چار فائر کیے۔

یہی وہ لمحہ تھا جس نے پورے معرکے کو کھلی جنگ میں تبدیل کر دیا۔

 توپوں نے آگ اگلنا شروع کر دی

پہلی فائرنگ کے ساتھ ہی ڈپٹی کمشنر اور کرنل ایلس فوراً توپخانے کی طرف بڑھے۔

چند ہی لمحوں بعد توپوں نے مسلسل گولہ باری شروع کر دی۔

دوسری جانب 14ویں Native Infantry کے سپاہی بھی فائرنگ کرتے ہوئے اپنی لائنوں کی طرف واپس گئے تاکہ بہتر دفاعی پوزیشن سنبھال سکیں۔

جب انہوں نے مورچے سنبھال لیے تو انہوں نے بھی بھرپور جوابی فائرنگ شروع کر دی۔

شدید مزاحمت کے باعث کرنل ایلس کی فوج تقریباً پانچ سو گز پیچھے ہٹ گئی اور کوارٹر گارڈ کے سامنے نئی پوزیشن لے لی۔

 کوارٹر گارڈ کی اہمیت

کوارٹر گارڈ اس وقت سپاہیوں سے بھرا ہوا تھا اور مضبوط دفاعی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔

اسی لیے انگریز فوج وقفے وقفے سے اس عمارت پر گولہ باری کرتی رہی تاکہ اندر موجود سپاہیوں کی مزاحمت ختم کی جا سکے۔

اسی دوران ڈپٹی کمشنر نے گھڑ سوار دستوں کو چرچ اور کینٹ کے درمیان تعینات کر دیا تاکہ اگر کوئی سپاہی شہر کی طرف نکلنے کی کوشش کرے تو اسے روکا جا سکے، اور اگر کوارٹر گارڈ کو آگ لگانے کی کوشش ہو تو فوری کارروائی کی جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر جب دوبارہ پریڈ گراؤنڈ پہنچا تو اس نے اندازہ لگایا کہ مسلسل گولہ باری کے باوجود توپخانے کو وہ کامیابی نہیں مل سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

اس کے بعد حکمتِ عملی تبدیل کی گئی۔

پولیس اور فوج کو حکم دیا گیا کہ وہ رجمنٹ کی لائنوں میں داخل ہو کر باغی سپاہیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کریں۔

 آہستہ آہستہ آگے بڑھتی فوج

حملہ دائیں جانب سے شروع کیا گیا، جبکہ توپخانہ بھی اسی سمت سے پیش قدمی کرتا رہا۔

باغی سپاہیوں نے ہر قدم پر سخت مزاحمت کی۔

انگریز فوج ایک ایک انچ آگے بڑھ رہی تھی اور ہر طرف شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔

 کرنل ایلس زخمی ہو گیا

اسی دوران کرنل ایلس نے خود ایک دستے کی قیادت سنبھالی اور کوارٹر گارڈ کی طرف بڑھا۔

وہ گھوڑے پر سوار تھا، اس لیے باغی سپاہیوں کی نظر فوراً اس پر پڑی۔

اس پر دو گولیاں چلائی گئیں۔

ایک گولی اس کی گردن میں لگی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا، جبکہ دوسری اس کی ٹانگ پر لگی۔ اس کا گھوڑا بھی گولیوں کی زد میں آ گیا۔

چند لمحوں کے لیے یہ خبر پھیل گئی کہ کرنل ایلس مارا گیا ہے، لیکن جلد ہی معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہے۔

 کوارٹر گارڈ پر قبضہ

اپنے کمانڈر کے زخمی ہونے کے بعد انگریز فوج نے مزید شدت سے حملہ کیا۔

آخرکار وہ کوارٹر گارڈ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئی اور وہاں موجود دفاعی مورچوں کو تباہ کر دیا۔

اس مرحلے کے بعد کارروائی کی کمان کرنل گیرارڈ کے پاس آ گئی۔

اس نے سامنے موجود ان عمارتوں پر توپوں سے گولہ باری کا حکم دیا جن پر باغی سپاہیوں کا قبضہ تھا۔

 سعیلہ کی طرف پسپائی

شدید دباؤ کے باعث باغی سپاہیوں نے اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ دریائے جہلم کے کنارے واقع گاؤں سعیلہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

ڈپٹی کمشنر نے فوراً گھڑ سوار دستوں کو تعاقب کا حکم دیا، لیکن علاقے کی جغرافیائی صورتِ حال کے باعث باغی سپاہی جلد ہی نئی دفاعی پوزیشنیں قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

ادھر توپخانے نے بھی پیچھے ہٹتے ہوئے سپاہیوں پر گولہ باری کی، مگر مصنف کے مطابق اس سے کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

 سعیلہ کا محاصرہ

کچھ ہی دیر میں گاؤں سعیلہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔

ابتدائی اندازے کے مطابق باغی سپاہیوں کی تعداد کم سمجھی جا رہی تھی، اس لیے فوری حملے کی تجویز دی گئی۔

تاہم کرنل گیرارڈ نے رائے دی کہ پہلے رجمنٹ کی لائنوں کو مکمل طور پر خالی کرایا جائے، کیونکہ ابھی بھی خدشہ تھا کہ کچھ سپاہی وہاں موجود ہیں۔

اسی مقصد کے لیے فوج کا ایک حصہ دوبارہ لائنوں کی طرف روانہ ہوا۔

یہ وقفہ باغی سپاہیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔

دریائے جہلم کے کنارے چھپے ہوئے مزید سپاہی سعیلہ پہنچ گئے اور وہاں مجاہدین کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی۔

 تھکے ہوئے سپاہی

دوپہر تک لڑائی مسلسل جاری رہی۔

سپاہی کئی گھنٹوں سے میدانِ جنگ میں موجود تھے اور شدید تھکن اور بھوک کا شکار تھے۔

کرنل گیرارڈ نے کچھ دیر کے لیے فوج کو پیچھے ہٹا کر کھانے کا انتظام کرنے کا حکم دیا۔

توپخانے کے اہلکاروں کو تو خوراک مل گئی، لیکن 24ویں رجمنٹ کے سپاہیوں کے لیے مناسب انتظام موجود نہیں تھا۔

مصنف کے مطابق اس صورتحال میں انہیں افسران کے بنگلوں سے شراب فراہم کی گئی۔

 اسلحہ خانے کی حفاظت

شام تقریباً چار بجے کرنل گیرارڈ نے ڈپٹی کمشنر سے درخواست کی کہ لیفٹیننٹ بیٹائے (Battye) کو پولیس کے دستے کے ساتھ لائنوں اور اسلحہ خانے کی حفاظت پر مامور کیا جائے۔

خدشہ تھا کہ باغی سپاہی دوبارہ حملہ کر کے اسلحہ اور گولہ بارود حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

جب لیفٹیننٹ بیٹائے اسلحہ خانے پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ وہاں کے دروازے پہلے ہی ٹوٹ چکے تھے۔

بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود غائب تھا۔

یہ صورتحال انگریز فوج کے لیے غیر متوقع تھی۔

ڈپٹی کمشنر نے فوراً جوانوں کو کوتوالی روانہ کیا تاکہ بچ جانے والا اسلحہ اور ایمونیشن محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے۔

 معرکۂ جہلم کی تاریخی اہمیت

جنگِ آزادی 1857ء کے کئی معرکے تاریخ میں درج ہیں، لیکن جہلم کا معرکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد سمجھا جاتا ہے۔

یہاں محدود وسائل رکھنے والے مقامی سپاہیوں اور مجاہدین نے ایک منظم اور جدید اسلحے سے لیس فوج کا مقابلہ کیا۔

اس جنگ میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا، لیکن اس معرکے نے یہ ثابت کر دیا کہ آزادی کی خواہش صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں تھی، بلکہ جہلم اور پوٹھوہار کے لوگوں نے بھی اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کیا۔

آج بھی سینٹ جان چرچ، گورا قبرستان، میدانِ پاکستان، موضع لوٹہ اور سعیلہ جیسے مقامات اس تاریخ کی خاموش گواہی دیتے ہیں۔

ان مقامات سے جڑی روایات اور تاریخی حوالوں کو محفوظ رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ اس خطے نے آزادی کی جدوجہد میں کیا کردار ادا کیا تھا۔

جاری ہے…

نوٹ:یہ تحریر مورخِ جہلم انجم سلطان شہباز کی تحقیق پر مبنی ہے، جسے انہوں نے خصوصی طور پر جہلم لائیو کے لیے تحریر کیا۔ اس ری رائٹ میں صرف زبان، اندازِ بیان اور پیشکش کو زیادہ رواں اور موبائل ریڈرز کے لیے آسان بنایا گیا ہے، جبکہ تاریخی واقعات اور مصنف کے بیان کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔